تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 446

محنت کی برداشت انسانی عقل کے ماتحت نہیں ہوسکتی تھی۔اگر خدا تعالیٰ یہ جذبات ماں کے دل میں پید انہ کرتا تو آہستہ آہستہ فلسفہ اور عقل کے ماتحت یا تو انسان اولاد پیدا کرنا ہی بند کردیتے اور یاپھر ان کی پرورش کی طرف سے اپنی توجہ کلیتہً ہٹالیتے۔پھر خدا تعالیٰ کے مُمِیْت ہونے کا نظارہ بھی روزانہ نظر آتا ہے۔بڑے بڑے شہروں میں سینکڑوں آدمی روزانہ مرتے ہیں۔چنانچہ کسی سڑک پر چلے جائو۔تمہیں جنازے گزرتے دکھائی دیںگے۔چھوٹے قصبات میںبھی پانچویں دسویں کوئی نہ کوئی موت ہوتی رہتی ہے چھوٹے گائوں میں بھی سال میں دوتین موتیں ہوجاتی ہیں۔پس موت کا یہ نظارہ بھی ہمیں کثرت سے دنیا میں نظر آتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی یہ دونوںصفات کہ وہ محیؔ بھی ہے اور ممیت ؔ بھی ہے اس رنگ میں لوگوں کے سامنے آتی رہتی ہیں کہ کوئی ان کا انکار نہیںکر سکتا۔حیات انسان کے لئے خوشی کا موجب ہوتی ہے اور موت لوگوں کے لئے رنج کا موجب ہوتی ہے۔دشمن کی بھی لاش پڑی ہوئی ہو تو سوائے کسی شقی القلب انسان کے دوسرے انسانوں کے دلوں میں رحم کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔بیس بیس تیس تیس سال کی دشمنیاں اس وقت دلوں سے نکل جاتی ہیں اور دشمن کی لاش دیکھ کر انسان کے دل میں سے اس وقت دعا ہی نکلتی ہے۔یا اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کےلئے دل میں رحم اورہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ ہر انسان جانتا ہے کہ جودن اس پر آیا ہے وہ مجھ پر بھی آنے والا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو عالم الغیب ہے یہ دونوں مواقع نہ کلی طور پر خوشی کا موجب ہوتے ہیں اور نہ کلی طور پر غم کا موجب ہوتے ہیں۔جب کوئی بچہ کسی کے گھر میں پیدا ہوتا ہے تو اس کے ماں باپ اور عزیز سمجھتے ہیں کہ ایک نیا چاند دنیا میں نکلا ہے ایک رحمت کا نیا دروازہ ہمارے لئے کھلا ہے حالانکہ بسا اوقات پیدا ہونے والی روح دنیا کے لئے کئی قسم کے مصائب اور دکھوں کا موجب ہوتی ہے۔اس کے رشتہ دار تو اس کی پیدائش پر تو خوش ہورہے ہوتے ہیں لیکن آسمان پر خدا کے فرشتے اس کی پیدائش سے غمگین ہو رہے ہوتے ہیں۔غرض پیدائش دنیا کے نزدیک ایک ہی نکتہ رکھتی ہے یعنی خوشی کا۔کسی کی پیدائش پر تھوڑے لوگ خوش ہوتے ہیں اور کسی کی پیدائش پر زیادہ۔لیکن آسمان کے فرشتے کسی کی پیدائش پر اگر ان کےلئے رونا ممکن ہوتو آنسو بہاتے یا دوسرے الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار کرتے ہیں۔اور کسی کی پیدائش پر خواہ دنیا کے لوگ خوشی نہ منائیںفرشتے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔یہی حال موت کا ہے۔موت کے وقت بھی دنیا کے ہر انسان کے رشتہ دار اور دوست تھوڑے ہوں یا بہت رنج محسوس کرتے ہیں۔ایک ڈاکو مرتا ہے تو اس کے بیوی بچے خوش نہیں ہوتے کہ ہماراباپ