تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 447

ڈاکو تھا۔قاتل تھا۔فتنہ وفساد پھیلاتا تھا۔اچھا ہوا کہ وہ مرگیا بلکہ ان کی اسی طرح چیخیں نکل جاتی ہیں جس طرح بڑے سےبڑے محسن اور نیک باپ کے بچوں کی اس کی وفات پر نکل جاتی ہیں اور وہ دنیا کےلئے اس کی موت کو ایسا ہی خطرناک سمجھتے ہیں جیسے کسی بڑے سےبڑے مصلح کی وفات کو بلکہ شائد اس سے زیادہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات ہوئی تو چونکہ ان کے دورِ حکومت میں امن قائم ہوا تھا۔اور وہ طوائف الملوکی جو پہلے پھیلی ہوئی تھی جاتی رہی تھی اس لئے سکھوں کے علاوہ جو ان کے ہم مذہب اور ہم قوم تھے ہندو او رمسلمان بھی عام طور پر یہ سمجھتے تھے کہ اب ان کی وفات کے بعد پھر فتنے پیدا ہونے شروع ہوجائیںگے۔اس لئے لوگوں میں ایک کہرام مچا ہو اتھا اور ہر شخص کے آنسو رواں تھے۔جن کے زیادہ گہرے تعلقات تھے وہ چیخیں مار رہے تھے۔فرماتے تھے کہ کوئی چوہڑا لاہور کے قریب سے گزرا اور اس نے جب دیکھا کہ ہر شخص ماتم کر رہا ہے تو اس نے کسی سے پوچھا کہ آج لاہور والوں کو کیا ہوگیا ہے کہ جس کو دیکھو رو رہا ہے۔جس کو دیکھو رو رہا ہے اس نے کہا۔تمہیں پتہ نہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہوگئے ہیں۔وہ بڑی حیرت کا اظہار کرکے کہنے لگا۔اچھا! رنجیت سنگھ مرگیا ہے اور اس پر لوگ رورہے ہیں۔پھر کہنے لگا۔’’ باپو ہوراں جیہے مرگئے تے رنجیت سنگھ بچار اکس شماروچ‘‘۔یعنی جب میرے باپ جیسا آدمی مرگیا تو رنجیت سنگھ بھلاکس شمار میں تھا۔اب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ذریعہ بے شک امن قائم ہوا تھا۔مگر چونکہ اس چوہڑے کا جو تعلق اپنے باپ سے تھا وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نہیں تھا۔اور سیاسی فوائد کو وہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا اس لئے اس کے نزدیک سب سے بڑی رنج کی بات اپنے باپ کی تھی۔اسی طرح کئی بادشاہ بڑے ظالم ہوئے ہیں۔مثلاً ہلاکو خاں بڑا ظالم مشہور ہے۔مگر جب ہلاکو خاں مرا ہوگا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی بیوی اور بچوں کو دوسروں کی بیویوں اور بچوں سے کم صدمہ ہوا ہوگا۔یقیناًانہیں ہلاکو خاں کی وفات پر ویسا ہی صدمہ ہوا ہوگا۔جیسے نوشیروان عادل کی وفات پر اس کے بیوی بچوں کو ہوا تھا۔حالانکہ نوشیرواں عدل کی وجہ سے مشہور ہے اور ہلاکو خان ظلم کی وجہ سے مگر دونوں کے بیوی بچوں کو یکساں صدمہ ہوا ہوگا۔بلکہ ممکن ہے ہلاکو خاں کے بیوی بچوں کو احساسات کے زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے نوشیرواں کے بیوی بچوں سے بھی زیادہ صدمہ ہوا ہو۔مگر آسمان پر یہ بات نہیں جس طرح پیدائش پر دنیا میں سارے بندے خوش ہوتے ہیں گو کسی کی پیدائش پر تھوڑے لوگ خوش ہوتے ہیںاور کسی کی پیدائش پر زیادہ لوگ خوش ہوتے ہیںمگر آسمان پریہ بات نہیں۔وہاںکسی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیاجاتا ہے اور کسی کی پیدائش پر رنج کا اظہار کیاجاتا ہے۔اسی طرح موت کا حال ہے۔موت پر سب لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں گو کسی کی موت پر تھوڑے لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں اور کسی کی موت پر زیادہ لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں مگر