تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 445
پھر فرماتے ہیں وَ الَّذِيْ يُمِيْتُنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ میرا خدا وہ ہے جو مجھے مارے گا اور پھر مجھے زندہ کرےگا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات مُحْیِ اورمُمِیْت کا ذکر کیا گیا ہے۔یعنی وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔اس کے زندہ کرنے کا ثبوت تو وہ ہزاروں لاکھوں بچے ہیں جو روزانہ دنیا میں پید اہوتے ہیں۔اور ایسے حالات میں پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں اور ایسے حالات میں سے گزر کر بڑھتے ہیں کہ اگر کسی بالا ہستی کاتصرف نہ ہو تو ان کے بڑھنے کی کوئی صور ت ہی نہیں ہوسکتی۔ایک جانور کا بچہ صر ف چند دن میں ہی اپنی ضرورتوںکوخود بخود پورا کرنے کے قابل ہوجاتا ہے چڑیوںکے بچے ایک یا ڈیڑھ ہفتہ میں اڑنے لگ جاتے ہیں۔مرغیوں کے بچے تین چار ہفتہ میں اپنی ضرورتوں کو پور اکرنے لگ جاتے ہیں۔چوپایوں کے بچے پیدا ہوتے ہی تھوڑی دیر میں اچھلنے کودنے لگ جاتے ہیں مگرانسان کا بچہ چھ سا ت مہینے بلکہ بعض دفعہ نو نو ماہ تک گودی میں اٹھائے رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔اور بعض اوقات تو سات آٹھ بلکہ نو مہینہ تک وہ گھٹنوں کے بل چلنے کے بھی قابل نہیں ہوتا۔پھر اس کی غذا جس سے وہ پرورش پاسکتا ہے اُس کی ما ں کی چھاتیوں میں ہوتی ہے۔کہیں دو تین سال میں جاکر وہ دانت نکالتا ہے۔بیشک ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو چھ یا سات مہینہ میں ہی اپنے دانت نکال لیتے ہیں یا نکالنے شروع کردیتے ہیں مگر بالعموم ایسے دانت جن سے بچہ کسی قدر غذا حاصل کرسکتا ہے وہ ڈیڑھ دو بلکہ اڑھائی سال کے بعد مکمل ہوتے ہیں اتنے لمبے عرصہ تک اپنی جان کو جو کھوں میں ڈال کر ایک عورت جو اپنے بچہ کی خدمت کرتی ہے یہ بغیر اس کے کبھی ممکن ہی نہیں تھا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل میں پرورش کا خیال اور بچہ کی محبت پیدا نہ کردی جاتی۔یہ مت خیال کرو کہ صرف ماں ہونا ہی اس محبت کا موجب ہوسکتا ہے۔کیونکہ ماں کے جذبات اس کے اپنے اختیار کی چیز نہیں اور اختیاری چیز ہی کسی انسان کی طرف منسوب کی جاسکتی ہے جو چیز کسی انسان کے اختیار کی نہیں وہ اُس کی طرف منسوب کس طرح کی جاسکتی ہے وہ تو لازماً کسی اور ہستی کی طرف منسوب کرنی پڑے گی۔اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کی ہی ہے جس نے ماں کے دل میں اپنے بچوں کی محبت پیدا کی اور اسے پیدائش اور پرورش کی تکالیف برداشت کرنے کی طاقت دی چنانچہ سالہا سال تک وہ اپنے بچوں کو پالتی رہتی ہے پہلے نو ماہ تو وہ اپنے بچہ کو پیٹ میں اٹھاتی ہے۔پھر دو سال اسے گود میں اٹھاتی ہے۔گویا اوسطاً اڑھائی سال تک ماں اپنے بچہ کی ہی ہورہتی ہے تب کہیں وہ پرورش پاتا ہے۔مگر اس کے بعد وہ فارغ نہیں ہو جاتی بلکہ بالعموم اسی وقت ایک دوسرے بچہ کی آمد شروع ہو جاتی ہےاور اس طرح اپنی زندگی کا بہترین حصہ عورت اپنے بچوں کی پرورش میں لگا دیتی ہے۔پس یہ جذبہ محبت جو ہر عورت کے دل میں اپنے بچوں کے متعلق پایا جاتاہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ورنہ اتنی