تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 444
ہومیو پیتھک دوا کی صور ت میں دے دو تو فوراً آرام آجائے گا۔اسی طرح سنکھیا ہے۔اس کے کھانے سے لوگ مرتے بھی ہیں لیکن دیکھنا تو یہ چاہیے کہ اس کے کھانے سے کتنے لوگ مرتے ہیں اور کتنے زندہ ہوتے ہیں۔اگر اندازہ لگایا جائے تو سال میں ہزار دو ہزار آدمی سنکھیا کھانے سے مرتے ہیں۔لیکن جو لوگ اس سے شفا پاتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں تک ہے۔پرانے ملیریا کے مریض پر جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی تو وہ سنکھیا کی قلیل مقدار سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے امراض کےلئے یہ مفید ہے۔اسی طرح کچلہ ہے۔یہ بھی زہر ہے اس کے کھانے سے کئی لوگ مرجاتے ہیں۔لیکن لاکھوںلاکھ انسان اس سے بچتے بھی ہیں۔اسی طرح بہت بڑی تباہی والی چیز افیون ہے۔لیکن اس کی تباہی کے مقابلہ میں اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اطباء کا قول ہے کہ طب کی آدھی دوائیں ایسی ہیں جن میں افیون استعمال ہوتی ہے اور اس کا اتنافائدہ ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے (اخبار الفضل قادیان ۱۹؍ جولائی ۱۹۲۹ء صفحہ ۲)۔جب انسان کو بےچینی اور بے کلی ہوتی ہے۔جب انسان کی نیند اڑ جاتی ہے۔جب انسان درد سے نڈھال ہوکر خودکشی کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو اس کو مارفیاکا ٹیکہ لگاتے ہیں۔جس سے اسے فوراً آرام ہوجاتا ہے پس دنیا میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنی ذات میں نقصان دینے والی ہو۔نقصان دینے والی چیز صر ف غلط استعمال ہے جو انسان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مرض کو اپنی طرف اور شفا کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے مگر ہمارے ملک میں ایک مسلمان خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے جب کسی کام میں ناکام ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے۔میں نے تو پورا زور لگا دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے ناکام کردیا۔گویا وہ خوبی کو اپنی طرف اور برائی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی بڑی بھاری ہتک ہے جو ہمارے ملک میں کی جاتی ہے حالانکہ سچے مومن کا یہ طریق ہوتا ہے کہ جب اس کے کام کا اچھا نتیجہ نکل آتا ہے تو وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ خدا تعالیٰ نے مجھے کامیاب کردیا۔او راگر خراب نتیجہ نکلتا ہے تو وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھتا ہے۔اور کہتا ہے میں اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے ناکام رہا ہوں۔ورنہ خدا تعالیٰ نے تو میرے لئے برکت اورر حمت ہی کے سامان کئے تھے۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت اسی کو ملتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح عیب اپنی طرف اور خوبی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے۔میرے اس بندہ نے چونکہ عیب اپنی طرف اور خوبی میری طرف منسوب کی ہے۔اس لئے اب میرا فرض ہے کہ میں اسے پوری طرح کامیاب کروں تاکہ تمام خوبیاں میری طرف ہی منسوب ہوں۔لیکن جب وہ ایسا نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کو تمام خرابیوںکا ذمہ وار قرار دیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کی مدد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔