تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 438
جاتااور اگر میرا وجود نہ ہوتا تو دنیا کو کیا نقصا ن ہوتا۔دنیا میں اکثر لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی ہوئی نہ ہوئی برا بر ہوتی ہے کیونکہ انہیں نہ اپنی زندگی کی غرض و غایت کا علم ہوتا ہے اور نہ وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر تمام لوگ اس سوال پر غور کریں تو اُن میں سستی اور غفلت اور کام کو ادھورا چھوڑنے کی عادت نہ رہے اور وہ ہر قسم کی قربانیوں سے کام لے کر اپنی روحانی ترقی کےلئے کوشش کریں۔آخر غور کرو۔دنیا میں کتنے لوگ ہٹلر۔نپولینؔاور تیمورؔ بن سکتے ہیں نہ ساری دنیا ہٹلربن سکتی ہے اور نہ ساری دنیا نپولین ؔبن سکتی ہے اور نہ ساری دنیا تیمورؔ بن سکتی ہے۔کیونکہ دنیوی ترقی کا میدا ن بہت تنگ ہے۔لیکن ایک مید ان ایسابھی ہے جہاں ہر انسان اپنے آپ کو نمایاں کرسکتاہے اور جتنا جی چاہے ترقی کر سکتا ہے اور کسی کو نقصان پہنچائے بغیر اور کسی کا راستہ روکے بغیر ترقی کرسکتا ہے اور وہ خدا رسیدہ بننے کا میدان ہے۔اس میںکسی کے بڑھنے سے کسی دوسرے کا نقصان نہیں اور پھر ہر پیشہ اور ہر درجہ کا انسان خدا رسیدہ بن سکتا ہے۔ایک بادشاہ اور اس کا بیٹا بھی خدا رسیدہ انسان بن سکتا ہے اور ایک فقیر بے نوا بھی خدا رسیدہ انسان بن سکتا ہے اور ایک نائی اور دھوبی بھی خدا رسیدہ انسان بن سکتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ ایک اقلیم میں دو بادشاہ نہیں ہوسکتے۔مگر اولیاء اللہ کا مقام وہ ہے کہ اقلیم تو کیا ایک گھر میںبلکہ ایک گھر تو کیا ایک کمرہ میں بھی دس اولیاء اللہ رہ سکتے ہیں۔اور اس میں کسی کا نقصان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے راستے اتنے وسیع ہیں کہ ان میں کبھی تنگی پیدا نہیں ہوسکتی۔جس طرح سمندر میں سے چڑیا چونچ بھر کر پانی لے جائے تو اس سے سمند ر کے پانی میںکوئی کمی نہیں آتی اسی طرح اللہ تعالیٰ سے تعلق کا حال ہے یہ اتنا وسیع خزانہ ہے کہ جس میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی اتنی محبت حاصل ہوئی کہ جس کی مثال باقی انبیا ء میں نہیں ملتی مگر اس کے باوجود خدا تعالیٰ کے پاس ابو بکر ؓاور عمرؓ اور عثمانؓا ور علیؓ اور طلحہؓ اور زبیرؓ کو دینے کے لئے بھی محبت موجود تھی اور تمام صحابہؓ نے بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کی۔پس ہمیشہ اس بات پر غور کرتے رہنا چاہیے کہ ہماری پیدائش کی غرض کیا ہے۔پیدائش کی اصل غرض جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا پیار ا بن جائے۔جب وہ یہ مقام حاصل کرلیتا ہے تو دنیا بے شک مٹ جائے خدا تعالیٰ کے رجسٹر سے اس کا نام کبھی نہیں مٹ سکتا۔وہ گدڑی میں پڑا ہوا بھی خدا تعالیٰ کا مقرب بن سکتا ہے اور اتنا بڑا بن سکتا ہے کہ دنیاکی بڑائیا ں اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہوجائیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاپنی قوم کو اسی بنیادی نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور انہیں نصیحت کی ہے کہ تم اپنی پیدائش کے مقصد پر غورکرو اوراللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کا جو سامان کیا ہے اس سے فائدہ اٹھائو ورنہ تمہاری زندگی بیکار چلی جائے گی اور تم اپنے ہاتھوںاپنی قبر کھود نے والے قرار پائو گے۔