تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 437

ہوجائیں میری قوم مجھ سے کنار ہ کرلے پھر بھی رب العالمین خدا جس کے کنار عاطفت میں میںنے اپنی زندگی بسر کی ہے اور جس کی گود میں میں نے پرورش پائی ہے مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔اور ہمیشہ مجھے عزت اور کامیابی اور غلبہ بخشے گا۔وہاں آپ نے اپنی قوم کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہیں اپنی پیدائش کے مقصد پر غور کرنا چاہیے اور اپنی زندگی کو رائیگاں نہیںکھونا چاہیے۔آخر اتنی بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ اُسے کسی اور ہستی نے پیدا کیا ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس بات پر غور کرتے ہیں کہ انہیں کیوں پیدا کیا گیا ہے۔وہ دنیا کی رعنائیوں اور دلچسپیوں میں کچھ ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ اُن کے دلوں میںاور اورسوالات توپیدا ہوتے رہتے ہیںمگر اُن کے دلوں میں اگر سوال پیدا نہیں ہوتا تو صرف یہی کہ وہ کیوں پید اکئے گئے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایسے جنگلوں میں جہاں کوئی آبادی نہیں ہوتی اور ایسے پہاڑوں میں جہاں انسان کا پہنچنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شاذو ونادر ہی کوئی انسان وہاں پہنچ سکتا ہے نہایت دلکش اور خوبصورت پھول کیوں پیدا کئے گئے ہیں۔پھر ہزاروں قسم کے کیڑے برسات کے موسم میں نکلتے ہیں اُن کے پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اِسی طرح سمندروںمیں جھینگر اور دوسرے بعض بدشکل سمندری جانور پیدا کرنے سے کیا فائدہ ہے۔پھر قسم قسم کی جڑی بوٹیوں کو اتنی کثرت سے کیوں اگایا گیا ہے۔اور زمین پر رینگنے والے کیڑے سانپ اور کنکھجورا وغیرہ کیوں پیدا کئے گئے ہیں۔غرض سمندر اور زمین پر اور ہوا میں ہزار ہا ایسی چیزیں ہیں جن کے متعلق انسان سوال کرتا ہے کہ وہ کیوں پیداکی گئی ہیں۔دشوار گزار پہاڑوں میں جہاں انسا ن بڑی مشکل سے پہنچتا ہے بعض اوقات نہایت خوبصورت پھولوں کا نظارہ انسان دیکھتا ہے تو اس کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مقام پر اس قسم کے خوبصورت پھو ل پیدا کرنے کی کیا غرض تھی۔غرض اس قسم کے ہزاروں سوالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیںاور ہرشخص اپنی اپنی عقل کے مطابق ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔مثلاً کہتا ہے کہ زہریلے کیڑوں یعنی سانپ وغیرہ کے زہروںسے اب بہت سی دوائیں تیا رہورہی ہیں جو نہایت سریع الاثر ثابت ہوئی ہیں۔یا یہ کہ دشوار گزار مقامات پریہ خوش کن نظارے اس لئے بنائے گئے ہیں کہ جو لوگ تکلیف۔مشقت اور محنت برداشت کرسکیںوہی ان نظاروں کو دیکھیں۔ان سوالات اور جوابات سے پتہ لگتا ہے کہ انسان ا س بات کو تسلیم کرتا ہے کہ دُنیا میں ہر چیز کے پیدا ہونے کی کوئی وجہ اور غرض ہونی چاہیے مگر انسان کوکبھی یہ بھی خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں پید اکیا ہے۔اور میرے پیدا کرنے کی غرض وغایت کیا ہے۔وہ اور چیزوں کے پیدا کرنے کی غرض وغایت معلوم کرنے کا بہت شوق رکھتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ میں کیوں پید اکیا گیا اور میں اس غرض کو پورا بھی کررہا ہوں یا نہیں۔اور اگر میں پیدا نہ کیا