تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 439

پھر فرماتے ہیں وَ الَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَ يَسْقِيْنِرب العالمین خدا ہی ہے جو مجھے کھانا کھلاتا اور پانی پلاتا ہے ورنہ نہ گندم میری پیدا کی ہوئی ہے۔نہ پانی میرا بنایا ہوا ہے۔نہ نمک میرا بنایا ہوا ہے۔نہ مرچ میری پیدا کی ہوئی ہے۔نہ گوشت میرا پیدا کیا ہوا ہے۔نہ ترکاریاں میں نے پیدا کی ہیں۔یہ سب چیزیں میرے باپ دادا کی پیدائش سے بھی پہلے کی ہیں۔بڑے سے بڑے خاندان کا ذکر بھی سو پشتوں سے آگے نہیں جاتا۔لیکن گندم۔پانی۔ترکاری۔گوشت۔نمک۔مرچ اور مونگ وغیرہ ہزاروں پشتوں سے بھی پہلے کی ہیں۔پھر یہ انسان کی کس طرح ہوگئیں ہم اگر کھاتے ہیں تو اس لئے کہ خدا نے ہمیں ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی ہے۔ورنہ ہم میں طاقت نہیں تھی کہ یہ چیزیں خود مہیا کرسکتے۔اسی طرح جب ہم پانی پیتے ہیں اور اس بات پر غور کرتے ہیںکہ یہ پانی ہمیں کس طرح ملا تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانی خدا تعالیٰ نے ہی زمین کی تہوں میں رکھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بار بار فرماتا ہے کہ اگر ہم اس پانی کو کھینچ لیں تو تم پانی کہاں سے لائو۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ ہم میں کوئی طاقت نہیں کہ ہم پانی مہیا کر سکیں۔یہ سب خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے یہ تمام ضروری اشیا ء ہمیں مہیا کردی ہیں۔اگر تھوڑی دیر ہی ہمیں پانی نہ ملے تو ہمیں سخت دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے وہاں لوگ ایسی ایسی چیزیں پیتے ہیں جن کو ہمارے علاقے میں پانی نہیں کہہ سکتے۔مثلاً سندھ اور بلوچستا ن کے بعض علاقے ایسے ہیں۔جہاں لوگ کیچڑ پیتے ہیں۔لیکن ہمارے ملک والے ایسا نہیں کرسکتے۔یہ الگ بات ہے کہ انہیں کوئی مشکل پیش آجائے۔تووہ بھی اس قسم کا پانی پی لیں۔ورنہ عام حالات میں ہمارے ہاں اسے پانی نہیں سمجھاجاتا۔غرض کھانے اور پینے کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مہیا نہ کی ہو۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کا وجود مخفی ہے اور وہ پس پردہ احسان کرتا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ اُس کے احسانات بہت زیادہ ہیں لوگ انہیں محسوس نہیں کرتے۔ماں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلاتی ہے۔اور بچہ اپنی عقل کے مطابق سمجھتا ہے کہ ماں اس پر احسان کرتی ہے اور اپنا خون اُسے چوساتی ہے حالانکہ یہ قربانی کا جذبہ ماں نے خود پیدا نہیں کیا۔یہ جذبہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے اُس کے اندر رکھا گیا تھا۔چنانچہ دیکھ لو چھوٹی چھوٹی لڑکیاں گُڑیاں بناتی ہیں اوران سے کھیلتی ہیں۔یہ وہی بچہ پالنے کا جذبہ ہوتا ہے جوان کے اندر پایا جاتا ہے۔ان کے اندر یہ حِس خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے خواہ وہ عقل کے ماتحت ایسا کرتی ہیں یا بے عقلی کے ماتحت ایسا کرتی ہیں۔بہرحال عورت کے اندر خدا تعالیٰ نے اولاد سے محبت کرنے کا مادہ رکھا ہے۔اوریہ وہ چیز ہے جو ماں نے خود اپنے اندر پیدا نہیں کی بلکہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے اُس کے اندر رکھ دی گئی تھی۔اور جب یہ مادہ ماں کی پیدائش سے پہلے کا اس کے اندر پایا جاتا ہے تو پھر یہ اس کا پیدا کیا ہوا نہ ہوا۔اب یہ