تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 436
ایسی خواہشات مت کیاکروہاں جب دشمن تم پر خود بخود حملہ کردے گا اور تمہارا خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہوگا تو یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ تمہیں چھوڑ دے کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ دائمی سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی بھی مدد کرتاہے اور ان لوگوں کی تائید کےلئے بھی اپنے نشانات دکھاتا ہے جو اُن رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔پسفَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی اسی سنت قدیم کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تمہارے یہ سب بت جن کے سامنے تم اپنی ناکیں رگڑتے ہو میرے دشمن ہیں اگر ان میں کوئی طاقت ہے تومیرے رب العالمین خدا کے مقابلہ میں جو ایک زندہ اور طاقتور خدا ہے مجھے نقصا ن پہنچا کردکھائیں۔یقیناً تمہارے بت ناکام رہیں گے اور میرا رب العالمین خدا ہمیشہ میرا ساتھ دے گا۔اسی طرح رب العالمین کے الفاظ میں یہ پیشگوئی بھی مخفی تھی کہ یہ دین آخر ایک عالمگیر صور ت اختیار کرلے گا۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سےایسا نبی مبعوث ہوگا جو ساری دنیا کی طرف ہوگااورجس کی فیض رسانی کے دائرہ سے کوئی متنفس بھی باہر نہیں رہے گا۔پھر فرماتے ہیں۔اَلَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَ یَھْدِیْنِ رب العالمین خداوہ ہے جس نے مجھے پید کیا ہے اور اُس کے نتیجہ میں لازماً وہ تمام خطرات اور حوادث سے بچاتے ہوئے مجھے منزل مقصود پر پہنچائے گا۔اور مجھے اپنے مقصد میں کامیاب کرے گا۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے پیدا کرے اور ایک مقصدِ عظیم کےلئے کھڑا کرے اور پھر اپنی محبت کا ہاتھ پیچھے ہٹا لے اورمجھے حوادث کا شکار ہونے دے۔اس کی صفت خلق اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کامیابی بھی اسی کی طرف سے آئے کیونکہ جوہستی اپنے معرضِ وجود میں آنے کےلئے دوسرے کی محتاج ہے وہ ترقی کے وسائل اور ذرائع بھی خود بخود مہیا نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لئے بھی وہ اپنے خالق کی ہی محتاج ہوگی۔اس کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے میں اگر کوئی مکان بنائوں تو جب تک میں اس میں دروازے نہ لگائوں۔جب تک میں اس میں کھڑکیاں نہ رکھوں۔جب تک میں اس میں طاقچے اورر روشندان نہ بنائوں اُس وقت تک اس مکان میں نہ دروازہ لگ سکتا ہے نہ کھڑکی لگ سکتی ہے نہ طاقچہ اور روشندان بن سکتا ہے۔کیونکہ وہ میرا مکان ہے اور میں نے ہی اُسے بنایا ہے۔اسی طرح جب انسان کو رب العالمین خدا نے پیدا کیا ہے تو رب العالمین خدا ہی جب تک اس کی مادی اور روحانی ترقی کے سامان مہیا نہ کرے اُس وقت تک وہ جسمانی اور روحانی طور پر کیسے ترقی کرسکتا ہے۔ان الفاظ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں اپنی قوم کو اپنے غلبہ اور ترقی کی خبر دی ہے اور اپنے اس یقین محکم کا اظہار کیا ہے کہ میرا خدا مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔بیشک میرا چچا مجھے چھوڑ دے میرے بھائی مجھے چھوڑ دیں میرے دوست مجھ سے الگ