تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 433

يَوْمَ الدِّيْنِؕ۰۰۸۳ جزا سزا کے وقت مجھے معاف کردے گا۔حلّ لُغَات۔اَلدِّیْنُ۔اَلدِّیْنُ کے معنے ہیں اَلْجَزَاءُ وَالْمُکَافَأَ ۃُ۔بدلہ۔اَلْحِسَابُ۔محاسبہ۔اَلْقَضَاءُ۔فیصلہ (اقرب) تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں جو اب دیا کہ تم مجھے اِن معبودوں کی حالت تو بتائوجن کی تم پرستش کرتے چلے آئے ہو۔یعنی تم بھی اور تمہارے پہلے باپ دادا بھی۔تمہارے یہ سب معبود میرے دشمن ہیں سوائے ربّ العالمین خدا کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔اگر یہ بُت اپنے اندر کوئی طاقت رکھتے۔تو کیا یہ سب مل کرمجھ اکیلے پر غالب نہ آجاتے اور مجھے تباہ و برباد نہ کردیتے ؟ اس جگہ عَدُوٌّ مفرد استعمال ہوا ہے جو ھُمْ کی خبر کے طور پر آیا ہے۔حالانکہ چاہیے تھا کہ اَعَدَاءٌ کا لفظ استعمال کیا جاتا جو جمع ہے۔سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کبھی مبتداء کوجمع اور خبر کو مفرد لے آتے ہیں۔چنانچہ اس سورۃ کے شروع میں ہی آتا ہے کہ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔یعنی اےموسیٰ ؑ اور ہارونؑ !فرعون سے کہنا کہ ہم دونوں اپنے ربّ کے رسول ہیں حالانکہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑدو نبی تھے۔اور بظاہر اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّکَ کی بجائے اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ کہنا چاہیے تھا۔مگر وہاں رَسُوْلَا رَبِّکَ کی بجائے اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّکَ اِسی لئے کہا گیا ہے کہ عربی زبان میں یہ طریقِ کلام رائج ہے۔چنانچہ عربی میں کہتے ہیں۔ھٰذَانِ رَسُوْلِیْ وَوَکِیْلِیْ وَھٰؤُلَآئِ رَسُوْلِیْ وَوَکِیْلِیْ (فتح البیان زیر آیت فَأتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَا۔۔۔۔۔)یعنی یہ دونوں میرے رسول اور وکیل ہیںاور یہ سب میرے رسول اور وکیل ہیں حالانکہ ھٰذَانِ کے بعد رَسُوْلَا ئِی آنا چاہیے تھا یعنی یہ دونوں میرے رسول ہیں اور ھٰؤُلَآئِ کے بعد رُسُلِیْ آنا چاہیے تھا۔کہ یہ سب میرے رسول ہیں۔مگر تثنیہ کی خبر میں بھی واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا اور جمع کی خبر میں بھی واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا۔پس یہ ایک مروّجہ عربی کا طریق ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ کے متعلق بعض لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ یہاں پتھر کے بے جان بُتوں کو دشمن کیوں کہاگیا ہے۔مفسرین نے اس سوال کایہ جواب دیا ہے کہ یہاں قلب نسبت سے کام لیا گیا ہے۔یعنی جس طرح ہماری زبان میں یہ کہا جاتا ہے کہ پرنالہ چلتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ پرنالہ نہیں چلتابلکہ پانی چلتا ہے اسی طرح یہاں کہا تویہ گیا ہے کہ وہ میرے دشمن ہیں لیکن مراد یہ ہے کہ میں اِن کا دشمن ہوں۔چنانچہ فرّاءؔ نے