تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 434
یہی معنے کئے ہیں اور ان الفاظ کو مقلوب قرار دیا ہے۔لیکن میرے نزدیک اس جگہ مخالفوں کے عقیدہ پر تعریض کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تم تو سمجھتے ہو کہ وہ معبود ہیں مگر میں ان کی عبادت نہیں کرتا اِس لئے لازماً وہ میرے دشمن ہوں گے سوائے ربّ العالمین خدا کے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔پس اب ہم دیکھ لیں گے کہ ربّ العالمین خدا میری مدد کرکے مجھے بچاتا ہے یا تمہارے معبود میری دشمنی کرکے مجھے ہلاک کرتے ہیں۔اگر ان بتوں میں بھی کوئی طاقت ہے تو چاہیے کہ یہ مجھے ہلاک کردیں۔لیکن وہ ایسا کبھی نہیںکرسکتے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بالکل بے بس ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔چنانچہ نتیجہ نے بتادیا کہ ربّ العالمین خد انے ابراہیم ؑ کو بچا لیا اور اُس کی قوم کے معبود اُس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔اِسی طرح اس پیشگوئی کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہودی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے تھے وہ کامیاب ہوگئے اور اُن کے دشمن تباہ ہوگئے۔پھر ربّ العالمین کے الفاظ استعمال فرما کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ میں جس خدا پر ایمان رکھتا ہوں وہ ایک زندہ اور طاقتور خدا ہے مگر تمہارے معبودوں میں تو جان ہی نہیں انہوںنے کسی کی مدد کیا کرنی ہے؟ بے شک ربّ العالمین کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ ہمارا خدا انسانوںکا بھی خدا ہے اور جانوروں کا بھی خدا ہے او رکیڑوں مکوڑوں کابھی خدا ہے اسی طرح وہ عربوں کا بھی خدا ہے اور ایرانیوں کا بھی خدا ہے اور ہندوستانیوں کا بھی خدا ہے۔لیکن ربّ العالمین میں جن جہانوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ زمانہ کے لحاظ سے بھی ہوسکتے ہیں۔پس اس کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ میںجس خدا کو پیش کرتا ہوں وہ ایک زندہ خدا ہے۔وہ آدم ؑ کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خداتھا۔وہ نوح ؑ کے زمانہ کے لوگوں کابھی خدا تھا اوروہ میرے زمانہ کے لوگوں کا بھی خداہے اور بعد میں آنے والوں کا بھی خدا ہوگا۔اور جو خدا آدم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور نوح علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کابھی خدا تھا اورہمارے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی خدا ہوگا۔صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک زندہ خدا ہے اگر وہ زندہ خدا نہ ہوتا تو ہرزمانہ کے لوگوں کا کس طرح خدا ہوسکتا۔پس رب العالمین کہہ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ میرا خدا ایک زندہ خدا ہے جس سے ہر زمانہ کے لوگ ویسا ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیںجیسے پہلے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں مگر تمہارے بت نہ پہلے لوگوں کو کوئی فائدہ پہنچا سکے اور نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔تم اپنے سارے معبودوں کو میری تباہی کےلئے اکٹھا کرلو اور ان کے آگے رو رو کر دعائیں کرو۔پھر دیکھو کہ میرا رب العالمین خدا جیتتا ہے یا تمہارے بت فتح حاصل کرتے ہیں۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتایا کہ جس طرح ایک چھوٹا بچہ جب اکیلا گلی میں سے گزر رہا ہوتا ہے اور گلی