تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 432
تھا وہ رویا نہیں۔اُس نے پاس والے وزیر سے دریافت کیا کہ کیا بات ہوئی ہے۔اُس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں میرے پاس والے وزیر رو رہے تھے اس لئے میں بھی رونے لگ گیا۔اُس نے کہا۔اُس سے پوچھو کیا بات ہے۔جب اُس سے پوچھا گیا۔تو اُس نے کہا۔مجھے تو علم نہیں۔میرے ساتھ والا وزیر رو رہا تھا آخر بات خاکروبہ تک پہنچی۔اس سے دریافت کیا گیا تو اُس نے بتایا کہ میر اسؤر کا بچہ مرگیا تھا۔مجھے وہ یاد آگیا تو میں نے رونا شروع کردیا۔جس طرح ایک خاکروبہ کوروتے دیکھ کر سارا دربار رونے لگ گیا تھا حالانکہ بات کچھ بھی نہیں تھی اِسی طرح انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو دیکھا تھا کہ وہ اِن بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔جب ہم نے دیکھا کہ وہ اِن بتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے اور سجدے کرتے ہیں تو ہم بھی ہاتھ جوڑنے اور سجدہ کرنے لگ گئے۔قَالَ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ۰۰۷۶اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ اُس نے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے چلے آئے ہو۔تم بھی اور تمہارے الْاَقْدَمُوْنَٞۖ۰۰۷۷فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۷۸ پُرانے باپ دادے بھی۔وہ سب کے سب ربّ العالمین کے سوا میر ی تباہی چاہتے ہیں۔جس (ربّ العالمین) الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِۙ۰۰۷۹وَ الَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَ نے مجھے پید اکیا ہے اور (اس کے نتیجہ میں) وہ مجھے ہدایت بھی دےگا۔اور جس کی صفت یہ ہے کہ يَسْقِيْنِۙ۰۰۸۰وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ۪ۙ۰۰۸۱وَ الَّذِيْ يُمِيْتُنِيْ وہی مجھے کھانا کھلاتا اور وہی مجھے پانی پلاتا ہے۔اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ شفا دیتا ہے۔ثُمَّ يُحْيِيْنِۙ۰۰۸۲وَ الَّذِيْۤ اَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْٓـَٔتِيْ اور جو مجھے مارے گا اورپھر زندہ کرے گا۔اور وہ ایسا ہے کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ میرے گناہ