تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 431

اِسی طرح ایک اور صحابیؓ کہتے ہیں کہ مجھے توحید کی اس طرح سمجھ آئی کہ میں ایک دفعہ سفر پر گیا تو میںنے اپنے ساتھ آٹے کاایک بت بنا کر رکھ لیا۔اتفاق ایسا ہوا کہ راستہ میں ہمارا آٹا ختم ہوگیا اور بھوک نے ہمیں بے قرار کردیا۔ہم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح کوئی اور چیز مل جائے تو ہم گذارہ کرسکیںمگر ہمیںکوئی چیز نہ ملی جب بھوک نے ہمیں سخت تنگ کیاتو ہم نے اسی بت کو کوٹ کاٹ کر آٹا گوندھ لیااور روٹی پکاکرکھاگئے۔جب ہم خوب سیر ہوچکے تو مجھے اپنے آپ پر ہنسی آئی کہ میں بھی کیسا احمق ہوں کہ جس وجود کو میں کوٹ کاٹ کر ہضم بھی کرگیااس کومیںاپناخدا اور حاجت روا سمجھتارہاہوں۔چنانچہ اس کاردّعمل یہ ہوا کہ سفر سے واپس آتے ہی میںمسلمان ہوگیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کے اسی عجز اور بے چارگی کی طرف توجہ دلائی اور ان سے پوچھا کہ بتائو۔کیایہ تمہیںکوئی نفع دیتے ہیں یاتمہارے دشمنوں کوضرر پہنچاسکتے ہیں؟حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے شرمندہ ہوکرکہاکہ نتیجہ توکچھ نہیںنکلتا۔لیکن ہم نے اپنے باپ دادوں کودیکھاہے کہ وہ ایسا ہی کرتے تھے۔اس لئے ہم نے بھی بتوں کی پرستش شروع کردی۔ان کایہ جواب بالکل ایسا ہی تھاجیسے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ایک لطیفہ سنایاکرتے تھے کہ ایک بادشاہ کے دربارمیںصفائی کرنے کے لئے ایک خاکروبہ اور ایک خاکروب آیاکرتاتھا۔اس خاکروب اور خاکروبہ نے سؤر پال رکھے تھے۔اتفاقاً سؤر کاایک بچہ مرگیا۔پالے ہوئے جانور سے بھی انسان کومحبت ہوجاتی ہے چاہے وہ سؤر ہی ہویاکوئی اور جانور۔ان کے لئے سؤر کابچہ ایسا ہی تھاجیسے ہمارے لئے گھوڑا یاکوئی اور جانور۔دربارکی صفائی کرتے ہوئے خاکروبہ کواس سؤر کے بچے کاخیال آگیا اور وہ دربار کی ایک دیوار کے ساتھ اپناسر رکھ کررونے لگ گئی۔اتنے میںدربار کاایک چپڑاسی آیااور اس نے خاکروبہ کو روتے دیکھ کریہ خیال کیاکہ خدانخواستہ اندر کوئی حادثہ ہوگیاہے۔مجھے پتہ نہیں لگا۔اگر کسی نے مجھے دیکھ لیاکہ میں رو نہیں رہا تو مجھ پر بے وفائی کا شبہ کرلیا جائے گا اس لئے وہ بھی رونے لگ گیا۔پھر ایک چوبدار آیا۔اُس نے جو دیکھا کہ یہ دونوں رو رہے ہیں تو سمجھا کہ ضرور کوئی واقعہ ہوا ہے جس کا مجھے پتانہیں لگا۔اگر کوئی شخص آگیا اور اس نے دیکھ لیا کہ میں رو نہیں رہا تو وہ خیال کرے گا کہ مجھے بادشاہ سے کوئی تعلق نہیں۔یہ خیال کرکے وہ بھی مصنوعی طور پر رونے لگ گیا پھر کلرک آئے انہوں نے بھی ان لوگوں کو دیکھ کر رونا شروع کردیا۔پھر چھوٹے افسر آئے۔درباری آئے۔وزراء آئے۔انہوں نے خیال کیا کہ ہمارا تو کام تھا کہ ہم ہر وقت خبر رکھیں لیکن ہمیں اس حادثہ کا کوئی علم نہیں ہوا۔ضرور کوئی بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ رو رہے ہیں۔اگر ہم نہ روئے تو ہم پر بے وفائی کا شبہ کر لیاجائے گا۔یہ خیال کرکے وہ بھی رونے لگ پڑے۔اور بڑے آدمیوں نے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے آنکھوں پر رومال رکھ کر رونا شروع کردیا۔اتنے میں ایک بڑا وزیر آیا وہ کچھ عقلمند