تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 418

اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبۃ: ۴۰)یقیناً ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو صرف یہ کہا کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ۔میرا رب میرے ساتھ ہے۔وہ یقیناً مجھے کامیابی کا راستہ دکھائے گا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فرماکر حضرت ابو بکر ؓ کو بھی اپنے وجود میں مدغم کرلیا اور فرمایا کہ جس طرح مجھے خدا تعالیٰ کی معیت حاصل ہے اِسی طرح تمہیں بھی خدا تعالیٰ کی معیت حاصل ہے۔اس لئے گھبراہٹ اور تشویش کی ضرورت نہیں۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ فرعون نے جب موسیٰ ؑ کا تعاقب کیا تو اُس نےموسیٰ ؑ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھ لیا۔لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعاقب میں مکّہ والے نکلے تو خد انے اُن کی آنکھوں کو اندھا کردیا اور نہ صرف وہ رسول کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ نے میں کامیاب نہ ہوسکے۔بلکہ انہیں اپنی آنکھو ں سے بھی دیکھنے کی خدا تعالیٰ نے ان کو طاقت نہ دی۔اور اس طرح کلّی طور پر خدا تعالیٰ نے اُن کو خائب و خاسر کیا۔اور اگر کسی شخص نے آپ ؐ کو دیکھ بھی لیا جیسا کہ سراقہؔ نے آپ ؐ کو مدینہ جاتے وقت دیکھ لیا تھا تو خدا تعالیٰ نے اُسے اُس وقت تک واپس نہیں آنے دیا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپؐ کی صداقت کا نشان اُس نے نہیں دیکھ لیا۔گویا دشمن صرف ایک مقام پر آپؐ کو دیکھنے میں کامیاب ہوا مگر اُس مقام پر بھی وہ دشمن کی کامیابی نہیں تھی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی تھی کیونکہ دشمن نے آپؐ کو گھائل نہیں کیا بلکہ آپؐ نے دشمن کو گھائل کیا اور پیشتر اس کے کہ وہ واپس لوٹتا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپؐ کی عظمت کا قائل ہوچکا تھا گو اسلام میں وہ فتح مکّہ کے موقعہ پر داخل ہوا۔(الاصابۃ حرف سین، سراقہ بن مالک ) فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ تب ہم نےموسیٰ ؑ کی طرف وحی کی کہ اپنے سونٹے کو سمندر پر مار۔جس پر (سمندر) پھٹ گیا۔فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِۚ۰۰۶۴وَ اَزْلَفْنَا اور اُس کا ہر ٹکڑا ایک بڑے ٹیلے کی طرح نظر آنے لگا۔اور اُس وقت ہم دوسرے گروہ ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَۚ۰۰۶۵وَ اَنْجَيْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ (یعنی فرعون کے گروہ ) کو قریب لے آئے۔اورموسیٰ ؑ اور اُس کے ساتھیوں کو نجات دی۔