تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 417
سے آگے اور کہیں نشان نہیں ملتا اُس وقت یہ کیفیت تھی کہ دشمن غار کے عین سر پر کھڑا تھا۔اور غار کا منہ تنگ نہیں تھا۔جس کے اند ر جھانکنا مشکل ہومگر وہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانک کر بڑی آسانی سے معلوم کیا جاسکتا تھا کہ کوئی شخص اندر بیٹھا ہے یا نہیں مگر ایسی حالت میں بھی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی خوف طاری نہیں ہوتا بلکہ آپؐ کی قوتِ قدسیہ کی برکت سے حضرت ابو بکر ؓ کا دل بھی مضبوط رہتا ہے اور وہ موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ہم پکڑے گئے بلکہ انہوں نے اگر کچھ کہا تھا تو یہ کہ یا رسول اللہ دشمن اتنا قریب پہنچ چکا ہے کہ وہ اگر ذرا بھی نظر نیچی کرے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اُسْکُتْ یَا اَبَا بَکْرٍ اِثْنَانِ اللّٰہُ ثَالِثُھُمَا ابو بکر ؓ خاموش رہو ہم اِس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک تیسرا خدا بھی ہے پھر وہ کیونکر ہمیں دیکھ سکتے ہیں (بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ الی المدینۃ و مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر و السیرة الحلبیة باب الھجرۃ الی المدینۃ )۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔باوجود اس کے کہ دشمن غار کے سر تک پہنچ چکا تھا پھر بھی اُسے یہ توفیق نہ ملی کہ وہ آگے بڑھ کر جھانک سکتا اور وہ وہیں سے بڑبڑاتے واہی تباہی باتیں کرتے ہوئے واپس چلا گیا۔غرض اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے گھبرا کر یہ کہا کہ اےموسیٰ ؑ! ہم پکڑے گئے۔گویا انہوں نے اپنے ساتھ موسیٰ ؑ کو بھی لپیٹ لیا۔اور خیال کیا کہ اب ہم سب فرعون کی گرفت میں آنے والے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل نے آپؐ کے ساتھی پر بھی ایسا اثر ڈالا کہ اس کی زبان سے بھی یہ الفاظ نہ نکلے کہ ہم پکڑے گئے بلکہ اُس نے کہا تو صرف یہ کہ دشمن اتنا قریب آچکا ہے کہ اگروہ ہمیں دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتاہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واہمہ کو بھی برداشت نہ کیا اور فرمایا کہ ایسا خیال بھی مت کرو ہم اس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک اور بھی ہستی ہے اور وہ ہمار اخدا ہے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے نکلے تو وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے جسے بائیبل نے اپنی شاعرانہ زبان میں لاکھوں بنا دیا ہے (خروج باب ۱۲ آیت ۳۷،۳۸)مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف ایک آدمی تھا۔اور گو وہ ایک آدمی بھی اپنے ایمان کے لحاظ سے سوالاکھ پربھاری تھا مگر بہر حال وہ فردِ واحد ہی تھا کوئی بڑی بھاری جمعیت اُس کے ساتھ نہیں تھی۔پھرموسیٰ ؑ اور اُس کے ساتھیوں کے سامنے بھاگنے کے لئے ایک کھلا راستہ تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ محصور ہو ئے اس میں سے نکلنے کا اورکوئی راستہ نہ تھا مگر باوجود اس کےکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف ایک آدمی تھا اور باوجود اس کے کہ دشمن سے بھاگنے کا آپؐ کے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا اور پھر آپؐ بالکل نہتے تھے آپؐ نے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھا اور فرمایا۔ابو بکر ؓ ! غم مت کرو۔