تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 419
اَجْمَعِيْنَۚ۰۰۶۶ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَؕ۰۰۶۷اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اور دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا۔اس(واقعہ) میں ایک بڑا نشان ہے۔لیکن لَاٰيَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۶۸وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ اِن (منکروں ) میں سے اکثر مانتے نہیں۔اور تیرا رب یقیناً الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۶۹ غالب (اور ) بارباررحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اِنْفَلَقَ۔اِنْفَلَقَ کے معنے ہیں اِنْشَقَّ۔پھٹ گیا (اقرب) فِرْقٌ۔اَلْفِرْقُ کے معنے ہیں اَلطَّائِفَۃُ مِنَ الشَّیْءِ الْمُتَفَرِّ قِ۔یعنی فِرْقٌ متفرق چیز کے ایک حصہ کو کہتے ہیں۔(لسان) اَلطَّوْدُ۔الطَّوْدُ اَلْجَبَلُ الْعَظِیْمُ۔یعنی طود عربی میں بڑے پہاڑ کو کہتے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں اَلْمُشْرِفُ مِنَ الرَّمَلِ۔ریت کا ٹیلہ۔اَلْھَضْبَۃُ چھوٹی سی پہاڑی جو زمین پر پھیلی ہوئی ہو(اقرب) اَ زْلَفَنَا۔أَ زْلَفْنَا اَ زْلَفَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور اَ زْلَفَہٗ کے معنے ہیں قرَّبَہٗ۔اُ س کو قریب کیا جَمَّعَہٗ : اُس کو جمع کیا (اقرب) پس اَ زْلَفْنَا کے معنے ہوںگے ہم نے قریب کیا یا جمع کیا۔تفسیر۔فرماتا ہے ہم نےموسیٰ ؑ کو وحی کی کہ اپناسونٹا سمندرپرمار۔جب اس نے سونٹا ماراتوسمندرپھٹ گیا۔اور ہرٹکڑا یعنی سمندر کی طرف کا پانی بھی اور خشکی کی طرف کاپانی بھی جو جھیلوں کی شکل میں تھاایک اونچے ٹیلے کے طور پر نظر آنے لگ گیا۔اس وقت ہم نے لشکر ِ فرعون کو قریب کردیا۔تب موسیٰ ؑ اور اس کے ساتھی تو سمندر اور جھیلوں کے درمیان کی ریت پر سے آرام کے ساتھ گذر گئے مگر فرعون کے لشکر میں گھبراہٹ پیداہوئی اور ان کی گاڑیوں کے پہیے ریت میں پھنسنے لگ گئے نتیجہ یہ ہوا کہ گاڑیاں نکالتے ہوئے مدّ کا وقت آگیا اور وہ سب کے سب غرق ہوگئے۔بائیبل میں اس معجزہ کا ذکرکرتے ہوئے لکھا ہے ’’پھرموسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایااور خداوند نے رات بھر تندپوربی آندھی چلاکر