تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 385

یہ خیال کہ کسی انسان کے جسم سے ایسی شعاعیں کس طرح نکل سکتی ہیں جو دوسروں کو بھی نظر آجائیں صرف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اس نشان کو ظاہر پر محمول کرلیتے ہیں۔اگر وہ سمجھتے کہ یہ ایک کشفی واقعہ ہے تو اس قسم کے وساوس بھی ان کے دل میں پیدا نہ ہوتے موسیٰ ؑ کا زمانہ تو بہت دور کی بات ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض ایسے نشانات دکھائے ہیں جن میں کشفی نگاہ رکھنے والوں نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو ظاہری شکل میں بھی متمثل دیکھا اور اُس کے روحانی کیف سے لذت اندوزہوئے۔چنانچہ ۱۹۰۴؁ء میں جب حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور تشریف لے گئے تو وہاں ایک جلسہ میں آپؑ نے تقریر فرمائی۔ایک غیر احمدی دوست شیخ رحمت اللہ صاحب وکیل بھی اُس تقریر میں موجو د تھے۔وہ کہتے ہیں۔دورانِ تقریر میں مَیں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرسے نُور کا ایک ستون نکل کر آسمان کی طرف جارہا تھا۔اُس وقت میرے ساتھ ایک اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے انہیں کہا۔دیکھو وہ کیا چیز ہے۔انہوں نے دیکھا۔تو فوراً کہا کہ یہ تو نور کا ستون ہے جو حضرت مرزا صاحب کے سر سے نکل کر آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔اس نظارہ کا شیخ رحمت اللہ صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کرلی۔(الفضل ۱۵؍ستمبر ۱۹۴۴ ؁ءصفحہ ۲ کالم ۲) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت چھ ماہ متواتر روزے رکھے تو آپ نے اُن روزوں کے روحانی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا : ’’ اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس اُمت میں گذر چکے ہیں اُن سے ملاقات ہوئی۔اور علاوہ اس کے انوارِ روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز وسُرخ ایسے دلکش اور دلستان طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقتِ تحریر سے باہر ہے۔وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سُرخ تھے۔اُن کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ اُن کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتاتھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی۔جیسا کہ اُن کو دیکھ کر دل اور رُوح کو لذّت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خد ااور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا۔اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔یہ روحانی امور ہیںکہ دنیا اُن کو نہیں پہچان سکتی۔کیونکہ وہ دنیا کی