تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 386

آنکھوں سے بہت دور ہیں۔لیکن دنیا میںایسے بھی ہیں جن کو اِن امور سے خبر ملتی ہے۔‘‘ (کتاب البریّہ حاشیہ ،روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۹۸ ،۱۹۹) اسی طرح آپؑ نےایک دفعہ فرمایا کہ: ’’میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اورپھر وہاں جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جذب ہوجاتے ہیں۔اور وہاں سے نکل کر ان کی لاانتہاء نالیاں ہوتی ہیں اور بقدر حصّہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں‘‘۔(الحکم مؤرخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ ؁ء صفحہ۷) اسی طرح ایک دفعہ آپؑ کو رؤیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔اور آپؑ نے دیکھا کہ جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں۔اِسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سورج کی طرح چمک رہی ہے۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۲۷۴ تا ۲۷۶) پھرجلسہ اعظم مذاہب لاہور میں ابھی آپؑ کا مضمون نہیں پڑھا گیا تھا کہ آپؑ نے رؤیا میں دیکھا کہ ’’میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نورِ ساطعہ نکلا جو اردگرد پھیل گیا۔اور میرے ہاتھ پر بھی اس کی روشنی پڑی۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۶۱۵) غرض اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اصلاحِ خلق کے لئے مبعوث فرماتا ہے وہ انہیں اپنے انوار اور تجلیات کا جلوہ گاہ بناتا ہے اور یہ نور بعض دفعہ ظاہر ی طور پر متمثل ہوکر دوسرے لوگوں کو بھی نظر آجاتا ہے تاکہ سعید الفطرت انسان اس سے فائدہ اٹھائیں اور وہ اپنے قلوب میں تغیر پیدا کریں۔خو د مجھے بھی اللہ تعالیٰ کا نور بعض دفعہ تمثل طور پردکھا ئی دیا ہے چنانچہ ۱۹۱۰؁ء یا ۱۹۱۱؁ء کا واقعہ ہے کہ مجھے بخار ہوگیا اور ساتھ ہی مجھے اپنی ران میں شدید درد ہونے لگا۔چونکہ اُن دنوں طاعون سے بعض اموات ہورہی تھیں مجھے وہم ہوا کہ کہیں یہ طاعون ہی نہ ہو۔چنانچہ میں نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیا اور سوچنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔اسی اثنا میںجب کہ میری آنکھیں کھلی تھیں میں درودیوار کو دیکھ رہا تھا اور مجھے اپنے کمرہ کی تمام چیزیں نظر آرہی تھیں۔میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے جو میرے کمرے کے نیچے سے نکل رہا ہے اور آسمان کی طرف چھت پھاڑ کر جا رہا ہے۔نہ اس کی کوئی ابتداء معلوم ہوتی ہے اورنہ انتہا۔اس کے بعد میں نے