تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 384
میںجو تضادسمجھا جاتا ہے۔وہ حقیقتاً کوئی تضاد نہیں محض قلّتِ تدبّر یا لغتِ عرب سے ناواقفیت کی وجہ سے ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔دوسراؔ نشان جو اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ظاہر کیا وہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلو سے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ انہیں بالکل سفید اور چمکتا ہوا دکھائی دیا۔یہ بھی ایک کشفی نظارہ تھا جو فرعونیوں کو دکھایا گیا۔اور جس میں ایک تو اس طرف اشارہ تھا کہ اے فرعونیو! تم مسمریزم جانتے ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ سفید رنگ نیکی اور پاکیزگی اور طہارتِ قلب کی علامت ہوا کرتا ہے پس موسیٰ ؑ کے ہاتھ کا سفید نظر آنا بتا رہا ہے کہ یہ شخص پاک اور بے عیب ہے اور یہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں کسی جھوٹ اور افتراء کی آمیزش نہیں۔اگر اس کا ہاتھ سیاہ دکھائی دیتا تو یہ اُس کی سیاہی قلب اور باطنی تاریکی کا ثبوت ہوتا۔مگر تم دیکھ رہے ہو کہ اس کا ہاتھ سورج کی طرح روشن ہے اور اس کی شعاعیں تمہاری آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہیں۔پس تم اپنے علم کی بناء پر بھی سمجھ سکتے ہو کہ یہ شخص پاکباز ہے اور تمہارا فرض ہے کہ یہ جو کچھ کہے تم اسے تسلیم کرو۔اسی طرح موسیٰ کا روشن ہاتھ اس تغیر کا بھی حامل تھا کہ اس شخص کے ہاتھ پر بڑے بھاری تغیرات مقدر ہیں مگر وہ تغیرات کسی ظلم اور تشدّد کے نتیجہ میں نہیں ہوںگے۔نہ مکر اور فریب اور جھوٹ اور جعلسازی اُن میں کام کررہی ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی معجزانہ نصرت اس کا باعث ہوگی جس کو موسیٰ ؑکی دعائیں جذب کریں گی اور وہ روحانی سلسلہ جس کی اس کے ہاتھ سے بنیاد رکھی جارہی ہے ایک دن دنیا کو اپنے انوار سے روشن کردے گا۔گویا جس طرح سورج اور چاند کے طلوع سے تاریکی غائب ہوجاتی ہے۔اسی طرح موسیٰ ؑ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کے جو نشانات ظاہر ہوں گے۔اُن سے وہ ظلمت اور تاریکی دُور ہوجائے گی جو لوگوں کے قلوب کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور شیطان کی جگہ رحمٰن کی حکومت قائم ہوجائے گی۔پھرموسیٰ ؑکے اس کشف میں آپ ؑ کی قوم کی پاکیزگی اور طہارت کی طرف بھی اشارہ کیاگیا تھا کیونکہ ہاتھ کی تعبیر میں جہاں بھائی بیٹے اور رشتہ دار وغیرہ مراد ہوتے ہیں(تعطیر الانام ) وہاں یَدْ سے قوم بھی مراد ہوتی ہے کیونکہ قوم کے افراد بھی ایک دوسرے کی تقویت اور سہارے کا موجب ہوتے ہیں اور مشکلات میں وہ دوسروں کے کام آتے ہیں۔پس کشفی طور پر آپ کے ہاتھ کا روشن اور بے عیب دکھایا جانا اس تعبیر کا بھی حامل تھا کہ آج تو بنی اسرائیل میں کئی قسم کے عیوب دکھائی دے رہے ہیں لیکن جب یہ قوم میرے ہاتھ پر جمع ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کے اندر ایسا نور پیدا کردے گا کہ یہ بھولے بھٹکوں کی راہنما بن جائے گی اور اخلاق اور روحانیت میں اعلیٰ درجہ کا کمال حاصل کرلے گی۔