تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 383

قرآن کریم نے اتنے مختلف الفاظ کیوں استعمال کئے ہیں۔اس سے تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔مگریہ اعتراض قلّتِ تدبر کانتیجہ ہے۔اگر وہ غور کرتے توانہیں اس میں کوئی اختلاف نظر نہ آتا۔حقیقت یہ ہے کہ فرعون کے دربار میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپناعصاپھینکااور وہ اژدہا بن کر نظرآنے لگا۔تو اس واقعہ کے متعلق قرآن کریم نے ہرمقام پرصرف ثُعْبَان کالفظ استعمال کیاہے کوئی اور لفظ استعمال نہیں کیا۔پس اس بارہ میںاختلاف کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔باقی رہا حَیَّۃٌ اور جَآنٌّ کے الفاظ کا استعمال سویہ دونوں الفا ظ اس موقعہ پراستعمال کئے گئے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام کواپنے کلام سے نوازا اورانہیں فرعون کی طرف جانے کی ہدایت فرمائی۔اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اے موسیٰ ؑ اپنا سونٹاپھینک۔انہوں نے سونٹا پھینکاتو قرآن کریم میںلکھا ہے کہ فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعٰى(طٰہٰ:۲۱)موسیٰ نے کیادیکھا کہ وہ ایک سانپ ہے جو دوڑرہا ہے حَیَّۃ کالفظ چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے سانپوں کے لئے استعمال ہوتاہے۔لیکن سورئہ نمل اور قصص میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیاگیاہے کہ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ (النمل :۱۱) جب موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی ہل رہی ہے گویاکہ وہ ایک چھوٹا سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کربھاگا اور اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔سورئہ قصص رکوع۴میں بھی یہی ا لفاظ استعمال کئے گئے ہیں پس اگراعتراض ہو سکتا ہے تو صرف اس پر کہ ایک ہی واقعہ کے متعلق ایک جگہ حیّۃ اور دوسری جگہ جانّ کالفظ کیوںاستعمال کیاگیاہے۔ثُعْبَانٌ کا لفظ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے الگ موقعہ پر استعمال ہوا ہے اس لئے ثُعْبَانٌ کے بارہ میں کوئی سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔سوال صرف یہ ہوسکتا ہے کہ حَیَّۃٌ کو دوسرے مقام پر جَآنٌ کیوں کہا گیا ہے سو یا د رکھنا چاہیے کہ سورئہ نمل اور قصص دونوں مقامات پر قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ وہ جَآنٌ تھا بلکہ یہ کہا ہے کہتَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وہ اس طرح ہلتا تھا جس طرح چھوٹا سانپ ہلتا تھا۔گویا تھا وہ بڑ اسانپ ہی مگر وہ ہلتا اس طرح تیزی سے تھا جیسے چھوٹا سانپ ہلا کرتا ہے۔پس قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں اُن کا آپس میںکوئی تضاد نہیں۔جہاں قرآن کریم نے جانّؔ کا لفظ استعمال کیا ہے وہا ں اس سانپ کی صرف تیزی کا ذکر ہے اور یہ بتا نا مقصود ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سونٹا پھینکا تو وہ چھوٹے سانپ کی طرح تیزی سے دوڑنے لگ پڑا وہاں اس کی شکل کا کوئی ذکر نہیں کہ وہ چھوٹا تھا یا بڑا بلکہ یہ بتانا مدّنظر ہے کہ چھوٹے سانپ کی طرح اُس میںتیزی پائی جاتی تھی۔لیکن جہاں ثُعْبَانٌ کا لفظ آیا ہے وہ آیات دیکھی جائیں تو صاف معلوم ہوگا کہ وہ واقعہ فرعون کے سامنے ہوا ہے اور فرعون کو چونکہ ڈرانا مقصود تھا۔اِس لئے اُسے ثُعْبَانٌ کی شکل میں سونٹا دکھائی دیا۔پس قرآنی آیات