تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 382

بھی اُسے ایسے ہی حملہ آور دکھائی دیئے جو بندوقوں اور تلواروں سے مسلح تھے غرض پندرہ ماہ اس نے سخت بے چینی اور اضطراب میں بسر کئے اور گھبرا کر ادھر اُدھر دوڑتا رہا۔یہ نظارے جو آتھم کو دکھائے گئے درحقیقت کشفی رنگ ہی رکھتے تھے۔ورنہ اگر کوئی جسمانی سانپ ہوتا تو عبداللہ آتھم اُسے آسانی کے ساتھ مار سکتا تھا۔اِسی طرح اگر انسان حملہ آور ہوتے تو وہ آسانی سے گرفتار کئے جاسکتے تھے۔مگر یہ چیز تو ایسی تھی جو صرف آتھم کودکھائی دی۔اور اُس نے خود ان واقعات کو بیان کیا(انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۸،۹)۔غرض جس طرح ابوجہل کودومست اونٹ دکھائی دیئے اور لاہور کے ہندو دوست کوایک شیر حملہ کرتاہوادکھائی دیا۔اور عبداللہ آتھم کوسانپ اور تلواروںاور نیزوں وغیرہ سے مسلّح افراد دکھائی دئیے۔اسی طرح فرعون مصر کوموسٰی کا عصا ایک اژدہا کی صورت میں نظرآیا جسے دیکھ کر وہ کانپ گیااور گو اس نے اسے ایک جسمانی سانپ ہی سمجھا مگر درحقیقت اس کی تعبیر یہ تھی کہ موسیٰ کی جماعت ایک دن فرعون اور اس کے تمام لائو لشکر کو اژدہا بن کر کھا جائےگی اور وہی بنی اسرائیل جن کو وہ موسیٰ ؑکے ساتھ بھیجنے کے لئے تیار نہیں ایک دن اس کی تباہی اور بربادی کاباعث بن جائیں گے اور موسٰی کوغلبہ حاصل ہوجائے گا۔تعطیرالانام میں بھی لکھاہے کہ مَنْ رَأَی اَنَّہٗ مَلِکَ ثُعْبَانًا فَاِنَّہُ یُصِیْبُ سُلْطَانًا عَظِیْـمًایعنی اگر کوئی شخص یہ دیکھے کہ کوئی بڑااژدہا اس کے قبضے میں آگیاہے تواس کی تعبیر یہ ہوگی کہ اسے بہت بڑاغلبہ حاصل ہوگا۔پس یہ کشف موسٰی او ر اس کی جماعت کے غلبہ اورفرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی خبر اپنے اندر رکھتاتھا۔اسی طرح اس کشف میں فرعون کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کاموسٰی کے ہاتھ میں ہی رہنا ضروری ہے ورنہ اگر یہ تمہارے پاس رہی توتمہارے اخلاق و اطوار ہی ان پر اثر انداز ہوں گے مگر پھر یہ انسان نہیں رہیںگے بلکہ سانپ بن جائیں گے۔اور جس طرح سانپ سفلی زمین کی مٹی کھاتاہے۔اسی طرح وہ بھی زمین کے کیڑے بن جائیں گے ایک مضبوط اور مستعد جماعت کی شکل اختیار نہیں کرسکیں گے۔مگر فرعون نے اس کشفی نظارہ کی حقیقت کو نہ سمجھا اور یہ خیال کرلیاکہ موسٰی کوئی بڑا جادوگر ہے۔جس نے اپنے جادو کے زور سے سونٹے کو سانپ کی شکل میں تبدیل کردیاہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عصائے موسٰی کے سانپ بن جانے کے متعلق قرآن کریم نے تین الفاظ استعمال کئے ہیں۔اوّل ثعبان۔دوم حیّۃ۔سوم جانّ۔ثعبان کالفظ تو سورۃ اعراف ع ۱۳اورسورۃ شعراء کی زیر تفسیرآیت میں استعمال ہواہے۔حیّۃ کالفظ سورۃ طٰہٰ کے پہلے رکوع میں استعمال ہواہے۔اور جانّ کالفظ سورۃ نمل ع۱ اور سورئہ قصص ع۴ میں استعمال ہواہے۔دشمنان اسلام اپنی نادانی سے یہ اعتراض کیاکرتے ہیں کہ ایک ہی امر کے متعلق