تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 381

کرہی رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ میرے سامنے کچھ فاصلہ پر ایک شیر بیٹھا ہے میں اُسے دیکھ کر کانپ گیا۔لیکن میں نے اپنے دل کو ملامت کی کہ تو کیسے وہم میں مبتلا ہوگیا ہے۔یہاں بھلا شیر کا کیا کام ہے اور میں نے پھر توجہ کرنی شروع کردی۔اس پر میں نے دیکھا کہ وہ شیر میرے قریب آگیا ہے اُسے دیکھ کر میرا جسم پھر کانپ اٹھا۔مگر میں نے اپنے آپ کو سنبھالااور پھر توجہ ڈالنی شروع کردی جب میں نےاپنا پورا زور لگا دیا تو اچانک میں نے کیا دیکھا کہ وہی شیر کود کر مجھ پر حملہ آور ہوا ہے اور ڈر کے مارے زور سے میری چیخ نکل گئی اور میں جلد ی سے اپنی جوتی لے کر نیچے بھاگا۔میری آواز سن کر حضرت مرزا صاحب نے اپنے مریدوں سے کہا کہ دیکھنا یہ کون شخص بھاگا ہے اور اسے کیا ہوا ہے۔چنانچہ ایک شخص میرے پیچھے آیا اور اُس نے مسجد کے ساتھ والے چوک میں مجھے آپکڑا میں چونکہ اس وقت سخت حواس باختہ تھا۔اِس لئے میں نے اس سے کہا کہ تم مجھے جانے دو۔میرے حواس اس وقت درست نہیں ہیں۔چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔بعد میں اس نے یہ تمام واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا اور کہا کہ مجھ سے گستاخی ہوگئی ہے۔میں آپ کے مرتبہ کو پہچان نہ سکا۔آپ بڑے خدا رسیدہ اور بزرگ انسان ہیں۔آپ میری اس غلطی کو معاف فرماویں۔میاں عبدالعزیز صاحب مغل سنایا کرتے تھے کہ میں نے اس ہندو سے پوچھا کہ تم نے یہ کیوں نہ سمجھا کہ مرزا صاحب مسمریزم جانتے ہیں اور اس علم میں وہ تم سے بڑھ کرہیں۔وہ کہنے لگا۔ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔کیونکہ مسمریزم کے لئے توجہ کا ہونا ضروری ہے اور یہ عمل کامل سکون اور خاموشی چاہتا ہے مگر مرزا صاحب تو اس وقت باتوں میں مشغول تھے اس لئے میں نے سمجھ لیا کہ ان کی قوتِ ارادی زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہے اور وہ خدارسیدہ انسان ہیں۔(سیرۃ المہدی صفحہ ۵۵،۵۶ جدید ایڈیشن) چنانچہ یہ ہندو جب تک زندہ رہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بڑا معتقد رہا اور ہمیشہ آپ سے خط و کتا بت رکھتا تھا۔اسی طرح ۱۸۹۳؁ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب عبداللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی کہ وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اُس کو سخت ذلّت پہنچے گی۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔تو عبداللہ آتھم کے دل پر اس پیشگوئی کی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اُسے قسم قسم کے خوفناک نظارے نظر آنے شروع ہوگئے۔ایک دفعہ امرتسر میں اسے ایک خطرناک سانپ دکھائی دیا۔جس کی اس کے دل پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ وہ بیوی بچوں کو چھوڑ کر لدھیانہ اپنے داماد کے پاس بھاگ گیا۔مگر وہاں پہنچ کر بھی اسے سکون نہ ملا۔بلکہ اُس نے دیکھا کہ بعض آدمی جنہوںنے اپنے ہاتھوں میں نیزے پکڑے ہوئے ہیں اُس کو قتل کرنے کے لئے مستعد کھڑے ہیں اور کوٹھی کے احاطہ کے اندر آپہنچے ہیں۔اس پر وہ پھر گھبرایا اور دوڑ کر اپنے دوسرے داماد کے پاس فیروز پور چلا گیا۔مگر وہاں