تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 380

ہاں ! آپؐ نے فرمایا۔پھر اِسے لادو۔وہ چپکے سے اندر گیا اور اس نے روپیہ لاکر دے دیا۔جب یہ خبر مکہ کے لوگوں نے سنی تو انہوں نے ابوجہل کو طعنے دینے شروع کردیئے کہ تم ہمیں تو کہتے ہو کہ محمدؐ رسول اللہ کی کوئی بات نہ مانو مگر خود اتنا ڈرگئے کہ اس کے کہنے پر تم چپکے سے اند رگئے اور روپیہ لاکر اس کے حوالے کردیا۔وہ کہنے لگا۔تمہیں کیا معلوم کہ میرے ساتھ کیا واقعہ ہوا جب میں نے دروازہ کھولا اور مجھے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )نظر آئے۔تو میں نے دیکھا کہ آپ کے دائیں اور بائیں دو مست اونٹ کھڑے ہیں اور وہ ایسے جوش میں ہیں کہ میں نے سمجھا اگر اس وقت میں نے ذرابھی انکار کیا تو یہ دونوں اونٹ مجھے نوچ کر کھا جائیں گے۔چنانچہ میں نے اپنی سلامتی اسی میں دیکھی کہ فوراً روپیہ لاکر پیش کردوں۔یہ بھی ایک کشفی نظارہ تھا جو ابوجہل کو دکھائی دیا۔ورنہ ظاہر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں کوئی دیوانے اونٹ نہیں تھے (السیرۃالنبویة لابن ہشام امر الاراشی الذی باع ابا جھل ابلہ)۔اِسی طرح ایک دفعہ ایک ہندوجو لاہور کے کسی دفتر میں اکائونٹنٹ تھا اور علمِ توجہ کا بڑا ماہر تھا کسی برات کے ساتھ اس نیت اور ارادہ سے قادیان آیا کہ میںمرزا صاحب پر مسمریزم کروں گا۔تو وہ مجلس میں بیٹھے ناچنے لگ جائیں گے۔اور لوگوں میں ان کی بڑی سبکی ہوگی۔یہ واقعہ اس ہندو نے خود لاہور کے ایک احمدی دوست میاں عبدا لعزیز صاحب مغل کو سنایا تھا جس کی تقریب اس طرح پیدا ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں عبد العزیز صاحب کو اپنی ایک کتاب دی اور فر مایا کہ یہ فلاں ہندو کو دے دینا۔انہوں نے اُسے کتاب پہنچا کر پوچھا کہ حضرت صاحب نے آپ کو یہ کتا ب کیوں بھجوائی ہے اور آپ کا ان کے ساتھ کیا تعلق ہے۔اس پر اس ہندو نے یہ سارا واقعہ سنایا اور کہاکہ مجھے مسمریزم کے علم میں اتنی مہارت حاصل ہے کہ اگر میں تانگہ میں بیٹھے ہوئے کسی شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ فوراًتانگے کے پیچھے پیچھے بھاگا آئے گا۔حالانکہ نہ وہ میر ا واقف ہوگا اور نہ میں اسے جانتا ہوں گا۔پھر اس نے کہا۔کہ میں نے آریوں اورہندوئوں سے حضرت مرزا صاحب کے خلاف بہت سی باتیں سنی ہوئی تھیں جن کی بناء پر میں نے ارادہ کیا کہ میں مرزا صاحب پر مسمریزم کے ذریعہ اثر ڈالوں گا۔اور اُن کے مریدوں کے سامنے ان کی سبکی کروں گا۔چنانچہ میں ایک شادی کے سلسلہ میں قادیان گیا اور مرزا صاحب کی مجلس میں بھی چلا گیا مرزا صاحب اُس وقت کچھ وعظ و نصیحت کی باتیں کررہے تھے۔میں نے دروازے میں بیٹھ کر اُن پر توجہ ڈالنی شروع کی۔مگر اُن پر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔میں نے سمجھا کہ اِن کی قوتِ ارادی زیادہ قوی ہے۔چنانچہ میں نے پہلے سے زیادہ توجہ ڈالنی شروع کی۔مگر پھر بھی ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔اور وہ اُسی طرح باتوں میں مشغول رہے۔تب میں نے سمجھا کہ ان کی قوتِ ارادی بہت زیادہ مضبوط ہے اور میں نے اپنی ساری توجہ اُن پر صرف کردی۔میں ابھی توجہ