تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 351
’ او ابن کلثوم ! تیری ماںکی ہتک ہوگئی ہے ‘‘ عمروابن کلثوم اس وقت بادشاہ کے ساتھ کھاناکھارہاتھا اورشاہی اعزاز کی وجہ سے وہ اپنے ہتھیار خیمہ میں ہی چھوڑ آیاتھا۔مگرجونہی اس نے اپنی ماں کی اس آوازکوسنا۔اس نے اپنی ماں سے جاکر یہ نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا ہتک ہوئی ہے۔گھبراکر کھڑاہوگیا اورادھر اُدھر دیکھنے لگ گیا۔خیمہ میں بادشاہ کی تلوار لٹک رہی تھی۔ا س نے اُچک کر تلوار کو میان سے نکالااور بادشاہ کو قتل کردیا۔پھر باہر نکل کراس نے اپنے قبیلہ والوں سے کہا۔بادشاہ کا سب مال و متاع لوٹ لو۔چنانچہ اس کا سب مال و متاع لوٹ کر وہ اپنے وطن کی طرف واپس چلا گیا۔(تاریخ الادب العربی للزّیات، عمرو بن کلثوم صفحہ ۶۴و الشعرو الشعراء عمرو بن کلثوم)۔ایسی اُجڈاوروحشی قوم کی طر ف جو بالکل بے راہ رَو تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گئے۔اورپھر موسیٰ ؑکی طرح آپؐ کادائرہ ہدایت صرف بنی اسرائیل تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ آپؐ کے سپرد تمام دنیا کو دین واحد پرجمع کرنے اورانہیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر لاڈالنے کاکام کیاگیا۔مگراتناعظیم الشان کام سپرد ہونے کے باوجود آپؐ نے یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! میرے رشتہ داروں یا دوستوں میں سے کوئی ساتھی میرے ساتھ کردے۔بلکہ آپ حکم ملتے ہی کھڑے ہوگئے اورکہا کہ بہت اچھااورکام شروع کردیا۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو اپنی انفرادیت پر پورابھروسہ نہ کرتے ہوئے ایک ساتھی کا مطالبہ کیا۔اوراگرچہ ایک ساتھی مل جانے سے اجتماعیت نہیں ہوجاتی لیکن تاہم اتنی ڈھارس ضرور ہوجاتی ہے کہ میں اکیلا نہیں بلکہ میرے ساتھ ایک اورساتھی بھی ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انفرادیت کے کمال کا مظاہرہ کیا اور اس بات کی کوئی پروا نہ کی کہ دنیا آپؐ سے کیا سلوک کرتی ہے۔بہرحال موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارونؑ کو اپنامددگار مقررکرنے کی درخواست کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔مگر وہی موسیٰ ؑ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے سامنے یہ عذر کیاتھاکہ میری توزبان نہیں چلتی جب فرعون کے دربارمیں گئے۔تواللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی قو ت بیانیہ عطافرمائی کہ آپ خود ہی فرعون کے تمام سوالات کے جوابات دیتے چلے گئے اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بولنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر جب انصا راورمہاجرین میں خلافت کے متعلق اختلاف پیدا ہوا۔اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ وغیر ہ ثقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے توحضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس موقعہ پر تقریرکرنے کے لئے اپنے ذہن میں ایک بہت بڑامضمون تیار کیا ہواتھا۔اورمیراارادہ تھاکہ میں جاتے ہی ایسی تقریر کروں گا کہ تمام انصار میرے دلائل کے قائل ہوجائیں گے اوروہ اس بات پر مجبور ہوجائیں گے کہ انصار کی بجائے مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کریں۔مگرجب ہم وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکرؓ نے تقریر شروع کردی۔میں