تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 350

سکھانا۔ان میں نظام قائم کرنا اوران کے اند رجماعتی روح پیداکرنا نسبتاً آسان ہوتاہے مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم کی طرف آئے تھے جوتمدن اورتہذیب سے بالکل ناآشنا تھی۔یہاں تک کہ اطاعت جو دنیامیں مہذب قومو ں کاشعارسمجھا جاتاہے وہ ان کے نزدیک سخت ذلت کی بات تھی چنانچہ عرب کی ادب کی کتب میں لکھا ہے کہ عرب میں ایک بادشاہ عمروابن ہند تھا۔اس نے ایک علاقہ پر جو شام اورعراق کی طر ف تھا اپنی حکومت قائم کی۔اورعرب کے لحاظ سے اس قدر شوکت حاصل کرلی کہ اسے یہ خیال پیداہواکہ ساراعرب میری بات مانتاہے۔ایک دن درباریوں سے ا س نے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیاعرب میں کوئی ایساشخص بھی ہے جو میری بات ماننے سے انکار کرسکے۔و ہ اس بات کوخوب سمجھتا تھا کہ عرب کے لوگ اطاعت کرنانہیں جانتے۔مگراس نے خیال کیاکہ مجھے ایسارعب حاصل ہوگیاہے کہ اب عرب کاکوئی شخص کم از کم میری بات ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا۔ایک شخص عمر و ابن کلثوم ہے۔جو اپنے قبیلہ کاسردار ہے۔ہمارے خیا ل میں وہ ایساشخص ہے جو آپ کی اطاعت نہیں کرے گا۔اس نے کہا۔بہت اچھا میں اس کی تصدیق کرنے کے لئے اسے بلواتاہوں۔چنانچہ بادشاہ نے عمر وابن کلثوم کو دعوت دی اوراسے خط لکھاکہ آپ یہا ں تشریف لائیں آپ سے ملنے کو جی چاہتاہے۔چنانچہ وہ اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوںکو لے کر آگیا۔جیسے عرب کادستورتھا بادشاہ اس وقت کسی جگہ خیموں میں ٹھہراہواتھا۔وہیں اس نے آکر اپنے خیمے لگادیئے۔اس نے عمروابن کلثوم کو یہ بھی لکھا تھا کہ اپنی والدہ اور دوسرے عزیزوں کو بھی لیتے آنا۔چنانچہ وہ اس کے مطابق اپنی والدہ کوبھی لے آیا۔عمروابن ہندنے اپنی والدہ سے کہا کہ کام کرتے کرتے عمر و ابن کلثوم کی ماں سے کوئی چھوٹاساکام لے کردیکھنا تاپتہ لگ سکے کہ ان لوگوں کی کیاحالت ہے۔چنانچہ جب وہ کھاناکھانے بیٹھے تو عرب کے دستورکے مطابق گووہ بادشاہ کہلاتاتھا مگر اس کی ماں خود کھانا تقسیم کرنے بیٹھ گئی۔اپنے بیٹے کے لئے بھی اورعمروابن کلثوم کے لئے بھی۔گویاعمروابن ہندکی والدہ اس وقت عملاً عمروابن کلثوم اوراس کے دوسرے عزیزوں کاکام کررہی تھی پس ایسے وقت میں عمرو ابن کلثوم کی ماںکا کسی کام میں ہاتھ بٹانا ہرگز اس کی ہتک کاموجب نہیں ہوسکتاتھا کیونکہ جب بادشاہ کی ماں خود ایک کام کررہی تھی تواس کام میں عمر و ابن کلثوم کی ماں کا ہاتھ بٹاناکوئی ایسی بات نہیں تھی جو اس کی شان اورعزت کے منافی ہوتی۔مگرواقعہ کیاہوتاہے۔کھاناتقسیم کرتے وقت ایک تھال کچھ فاصلے پر پڑاتھا۔عمرو ابن ہند کی والدہ کھاناتقسیم کرتے کرتے اسے کہنے لگی۔بی بی ذراوہ تھال توسِرکاکر ادھرکردینا۔اسے بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ اس سے زیادہ اسے کوئی کام کرنے کے لئے کہے۔مگرتاریخوں میں لکھاہے کہ جونہی اس نے عمرو ابن کلثوم کی والدہ سے یہ بات کہی۔وہ کھڑی ہوگئی اوراس نے زورسے پکار ناشروع کردیا کہ