تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 352

نے اپنے دل میں کہا کہ انہوںنے بھلا کیابیان کرناہے مگرخدا کی قسم جتنی باتیںمیں نے سوچی ہوئی تھیں وہ سب انہوں نے بیان کردیں بلکہ ان کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس سے بھی بہت سے دلائل دیئے۔تب میں نے سمجھا کہ میں ابوبکر ؓ کامقابلہ نہیں کرسکتا۔(صحیح بخاری کتابالحدود باب رجم الحبلٰی فی الزنی اذا احصنت و مسند احمد حدیث الثقیفة و البدایة و النھایة فصل فی ذکر امور مھمة وقعت بعد وفاتہ و قبل دفنہ صلی اللہ علیہ وسلم قصة ثقیفة بنی ساعدة)۔اسی طرح حضر ت موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ مجھ سے فرعون کے دربارمیں کہاں بولاجائے گا۔مگرجب وہاں پہنچے تواللہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی تائید فرمائی کہ حضرت ہارون علیہ السلام کو ایک لفظ تک نہ بولنا پڑا اوراس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے انتخاب کی عظمت کو ظاہر کردیا۔اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک اور عذر کیا اورکہا۔کہ وَ لَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ وہ لوگ مجھ پر ایک گناہ کاالزام لگاتے ہیں۔سومیں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دینے سے ڈرتے تھے بلکہ انہیں اس بات کا خوف تھاکہ کہیں ایسانہ ہو کہ فرعون مجھے جاتے ہی گرفتار کرلے اوراس وجہ سے کہ میرے ہاتھ سے ایک قبطی ماراجاچکاہے میرے قتل کے احکام صادر کردے اورخدا تعالیٰ کا پیغام اسے نہ پہنچ سکے۔گویاانہیں اپنی موت کا غم نہیں تھا بلکہ انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں انہیں اپنے فرائض کی بجاآوری سے پہلے ہی قتل نہ کردیاجائے اوراس طرح اس مشن کو نقصان نہ پہنچے جو خدا تعالیٰ نے ان کے سپرد کیا تھا۔ورنہ انبیاء خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دینے سے نہیں ڈرتے۔بیشک جہاں تک نبیوں کاوجود ان کی امت کے مقابلہ میں ہوتاہے وہ بہت بڑی حیثیت رکھتے ہیں۔اتنی بڑی حیثیت کہ اگر ساری دنیا کی جانیں بھی ایک نبی کی جان بچانے کے لئے قربان کرنی پڑیں تووہ قربان کی جاسکتی ہیں۔مگرجہاںتک صداقت کاسوال ہے نبی بھی اسی طرح صداقت کا خادم ہوتاہے جس طرح اس کاعام پیرو صداقت کاخادم ہوتاہے اگر کسی سلسلہء روحانیہ کے پہلے اورآخری نبی کے علاوہ کہ جن پر سلسلہ کا انحصارہوتاہے کوئی اورنبی ماراجاتاہے یاجلاوطن کردیاجاتاہے لیکن اس کی پیش کردہ صداقت دنیاسے نہیں مٹتی تواس کاماراجانایا وطن سے بے وطن ہوجانا ہرگزقا بل اعتراض نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ نبی کے مقابلہ میں صداقت حاکم ہوتی ہے او رنبی خادم۔جس طرح نبی کے مقابلہ میں امت خادم ہوتی ہے اورنبی حاکم۔جس طرح نبی کے مقابلہ میں اگر ساری دنیا بھی تباہ کردی جائے تو کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کا پیغام دنیا تک پہنچ جائے توپھر بے شک نبی شہید ہوجائے۔اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔کیونکہ وہ اس غرض کے لئے آیاتھا کہ صداقت دنیا میں پھیلائے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس خدشہ کا اظہار اپنی موت کے خوف سے نہیں کیا