تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 349
کوتسلی دینا تو خدا کاکام ہے مگر اس کی زبان بندہوگئی اوروہ اس کاکوئی جواب نہ دے سکااوراس بات کامیرے دل میں پہلے ہی یقین تھا کہ جو آیت اس کے منہ سے نکلے گی وہ وہی ہوگی جس سے اس کی زبان بند ہوجائے گی توعلم بھی خداکے اختیار میں ہے۔جرأت بھی خداکے اختیار میں ہے۔عزت بھی خداکے اختیار میں ہے اورطاقت بھی خداکے اختیا رمیں ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ خیال کیا کہ میں فرعون کے دربار میں کہاں بول سکوں گا۔مگر جب وقت آیاتواللہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی تائید فرمائی کہ فرعون دنگ رہ گیا اوراسے دلائل کے میدان میں موسیٰ علیہ السلام کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دینے پڑے۔اس موقعہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جویہ فرمایاکہ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ تُواپنا پیغام ہارونؑ کی طرف بھیج۔اس سے یہ مراد نہیںکہ تومجھے مبعوث نہ کر بلکہ جیساکہ سورئہ طٰہٰ سے معلوم ہوتاہے۔انہوں نے یہ دعاکی تھی کہ وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ۔هٰرُوْنَ اَخِي۔اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِيْ۔وَ اَشْرِكْهُ فِيْۤ اَمْرِيْ (طٰہٰ : ۳۰تا۳۳)یعنی اے میرے خدا! میرے اہل میں سے ہارون کو جو میرابھائی ہے میرانائب تجویز کر اوراس کے ذریعہ سے میری طاقت کو مضبوط فرما اوراسے میرے کام میں شریک کر۔پس اَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَکے یہ معنے ہیں کہ میرے علاوہ اس کی طرف بھی کلام بھیج اوراسے بھی میرے ساتھ مبعوث فرما۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی مقدس انسان کو نبوت کا مقام عطا کیا جاتا ہے تووہ انکسار کی وجہ سے گھبراتاہے اورخیال کرتاہے کہ ایسانہ ہومیں اس عظیم الشان ذمہ واری کو پوری طرح ادانہ کرسکوں۔اوراس میں میری طرف سے کوئی خامی اورنقص رہ جائے۔یہی طریق تما م انبیاء کاہے اوراسی طریق سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی کام لیااورکہہ دیاکہ ہارون کو بھی میرے ساتھ شامل کردیجئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی احادیث سے ثابت ہے کہ آپؐ نے ابتداء میں انکسار سے کام لیا اور جب فرشتے نے کہا اِقْرَئْ یعنی پڑھ۔توآپؐ نے یہی فرمایا کہ مَااَنَا بِقَارِیٍء۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) میں توپڑھے لکھے آدمیوں میں سے نہیں ہوں۔اس وجہ سے میں نے کیاکام کرناہے۔اوراسی بناء پر ابتدائی ایام میں آپ کو شدید گھبراہٹ رہی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی متواتر تائیدات نے آپ کوایسے مقام پر کھڑاکردیا کہ آپؐ نے سمجھ لیا اب میرافرض ہے کہ میں آگے کی طرف بڑھتاچلاجائوںاور کسی مشکل کی پروا نہ کروں مگرآپ کاعرفان چونکہ موسوی عرفان سے بہت زیادہ تھا اس لئے آپ نے یہ نہیںکہاکہ مجھے کوئی مددگار دیاجائے۔بلکہ آپ ؐاکیلے ہی ا س بوجھ کواٹھانے کے لئے تیار ہوگئے۔حالانکہ آپؐ کے سپر دجوکام تھا وہ موسیٰ ؑکے کام سے بہت بڑاتھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے جومتمدن تھی اورمتمدن لوگوں کودینی علوم