تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 348
جو درحقیقت اس کے سوال کے پس پردہ تھی۔اس کے بعد اس نے تیسراسوال کیا جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہا۔بہرحال اس نے تین سوال کئے اورتینوں سوالات کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے القاء کرکے مجھے بتادیاکہ اس کا ان سوالات سے اصل منشاء کیاہے اورباوجود اس کے کہ وہ چکر دے کر پہلے اورسوال کرتاتھا پھر بھی اللہ تعالیٰ اس کااصل منشاء مجھ پرظاہر کردیتا۔اوروہ بالکل لاجواب ہوگیا۔تواللہ تعالیٰ قلوب پر عجیب رنگ میں تصرف کرتا اوراس تصرف کے ماتحت اپنے بندوں کی مدد کیا کرتاہے۔اوریہ تصرف صرف خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتاہے بندوں کے اختیارمیں نہیں ہوتا۔ایک دفعہ ایک کج بحث ملا مسجد میں مجھےملا۔اورکہنے لگامجھے مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت دیجئے۔میں نے کہا قرآن موجود ہے ساراقرآن مرزا صاحب کی صداقت کاثبوت ہے۔کہنے لگا کون سی آیت۔میں نے کہا قرآ ن کی ہر آیت مرزا صاحب کی صداقت کاثبوت ہے۔اب یہ توصحیح ہے کہ قرآن کی ہرآیت ہی کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر چسپاں ہوسکتی ہے۔مگر بعض آیات ایسی ہیں کہ ان کاسمجھا نا اوریہ بتاناکہ کس رنگ میں اس سے نبی کی صداقت کاثبوت نکلتاہے بہت مشکل ہوتاہے۔فرض کرو کسی آیت میں لڑائی کاواقعہ بیا ن ہو تواب گواس سے بھی نبی کی صداقت ثابت کی جاسکتی ہے مگروہ ایسارنگ ہوتاہے جوعام طبائع کی سمجھ سے بالاہوتاہے۔مگر مجھے اس وقت یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ تصرف فرماکر اس کی زبان سے وہی آیت نکلوائے گا جس سے نہایت وضاحت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہوجائے گی۔خیر وہ اصرا رکرتارہا کہ آپ کوئی آیت بتائیں۔مگر میں یہ کہوں کہ آپ کوئی آیت پڑھ دیں۔اسی سے میں حضرت مرزا صاحبؑ کی صداقت ثابت کردوں گا۔آخر اس نے یہ آیت پڑھی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَاھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ (البقرۃ : ۹)میں نے سمجھ لیاکہ یہ اللہ تعالیٰ کاہی تصرف ہے کہ اس نے اس کی زبان سے یہ آیت نکلوائی ہے چنانچہ میں نے اس سے کہا۔یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔مسلمانوں کے متعلق ہے یاغیر مسلمانوں کے متعلق۔اس کا اصل سوال یہ تھا کہ جب مسلمان نمازیں پڑھتے ہیں اورروزے رکھتے ہیں حج کرتے ہیں اورخدااوراس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں توان کے لئے کسی نبی کی کیا ضرورت ہے۔جب اس نے یہ آیت پڑھی تومیں نے اس سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔اس نے کہا۔مسلمانوں کے متعلق۔میں نے کہاتوپھریہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض لوگ خراب ہوجاتے ہیں۔وہ منہ سے توکہتے ہیں ہم مومن ہیں مگر درحقیقت وہ مومن نہیں ہوتے۔اورقرآن یہ بتاتاہے کہ خالی اپنے آپ کو مومن کہہ دینا کافی نہیں جب تک انسان اپنے عمل سے بھی ایمان کاثبوت نہ دے۔اب آپ ہی بتائیں کہ جب مسلمان بھی بگڑ سکتے ہیں توکیا خدا تعالیٰ ان کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجے گایانہیں بھیجے گا؟دلوں