تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 347
نئے مسیح کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی۔اس پر وہ بہت ہی شرمندہ اورذلیل ہوگیا۔پھر اس نے مجھے کہلا بھیجا کہ میںآپ سے ملناچاہتاہوں میری طبیعت کچھ خراب تھی۔میں نے جواب دیاکہ پادری صاحب بتائیں کہ وہ مجھے کیوں ملناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہا چند باتیں پوچھنا چاہتاہوں۔مگرپہلے نہیں بتاسکتا۔خیر میں نے ان کو بلالیا۔وہ بھی آگئے اورپادری گارڈن صاحب بھی آگئے۔ایک دودوست اوربھی موجودتھے۔پادری زویمر صاحب کہنے لگے میں ایک دوسوال کرناچاہتاہوں۔میں نے کہافرمائیے۔کہنے لگے اسلام کاعقیدہ تناسخ کے متعلق کیاہے ؟ آیاوہ اس مسئلہ کومانتاہے یاانکار کرتاہے۔جونہی اس نے یہ سوال کیامعاً اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیاکہ اس کا اس سوال سے منشاء یہ ہے کہ تم جومسیح موعود کومسیح ناصری کابروز اوران کا مثیل کہتے ہو۔توآیا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح ناصر ی کی روح ان میں آگئی ہے۔اگر یہی مطلب ہے تو یہ تناسخ ہوا۔اورتناسخ کاعقید ہ قرآن کریم کے خلاف ہے چنانچہ میں نے انہیں ہنس کر کہا۔پادر ی صاحب آپ کوغلطی لگ گئی ہے ہم یہ نہیں سمجھتے کہ مرزا صاحب میں مسیح ناصری کی روح آگئی ہے بلکہ ہم ان معنوں میں آپ کو مسیح ناصری کامثیل کہتے ہیں کہ آپ مسیح ناصری کے اخلاق اور روحانیت کے رنگ میں رنگین ہوکر آئے ہیں۔میں نے جب یہ جواب دیا تواس کارنگ فق ہوگیااورکہنے لگاآپ کو کس نے بتایا کہ میں نے یہ سوال کرناتھا۔میں نے کہا آپ یہ بتائیں کہ آیا آپ کااس سوال سے یہی منشاء تھا یا نہیں؟ کہنے لگا۔ہاں میرامنشاء تویہی دریافت کرناتھا۔میں حیران تھا کہ جب قرآن تناسخ کے خلاف ہے تواحمدی مرزا صاحب کو مسیح موعود کس طرح کہہ سکتے ہیں۔پھر میں نے کہا اچھا آپ دوسراسوال پیش کریں۔کہنے لگا۔میرا دوسراسوال یہ ہے کہ نبی کی بعثت کیسے مقام پر ہونی چاہیے یعنے اس کو اپنا کام سرانجا م دینے کے لئے کس قسم کا مقام چاہیے۔جونہی اس نے یہ دوسراسوال کیا۔معاً دوبارہ خدا نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس سوال سے اس کامنشاء یہ ہے کہ قادیان ایک چھوٹاساگائوں ہے یہ دنیاکامرکز کیسے بن سکتاہے۔اوراس چھوٹے سے مقام سے ساری دنیا میں تبلیغ کس طرح کی جاسکتی ہے۔اگر حضرت مرزا صاحب کی بعثت کامقصدساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ پہنچانا ہے توآپ کو ایسی جگہ بھیجنا چاہیے تھا جہاں ساری دنیامیں آواز پہنچ سکتی ہو۔نہ یہ کہ قادیان جو ایک چھوٹا سا گائوں ہے اس میں آپ کو بھیج دیاجاتا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس کے سوال کے معاً بعد یہ بات میرے دل میں ڈال دی اورمیں نے پھر اسے مسکراکر کہا۔پادری صاحب ناصرہ یا ناصرہ سے بڑاکوئی شہر ہو وہاں نبی آسکتاہے۔حضرت مسیح ناصری جس گائوں میں ظاہرہوئے تھے اس کانام ناصر ہ تھا اورناصر ہ کی آبادی بمشکل دس بارہ گھروں پر مشتمل تھی۔میرے اس جواب پر پھراس کارنگ فق ہوگیا۔اوروہ حیران ہواکہ میں نے اس کی اسی بات کا جواب دےدیا