تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 346

مگر اس خیال سے گھبراگئے کہ آج لوگوں کو ہنسی اورٹھٹھے کاموقعہ مل جائے گا۔مگر جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ کو دیکھا توآپ کے چہرہ پر ناپسندیدگی یاگھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔جب وہ بات ختم کرچکے تو آپ نے فرمایا دیکھئے پاد ری صاحب میں جس مسیح کے مثیل ہونے کادعویٰ کرتاہوں اسلامی تعلیم کے مطابق وہ اس قسم کے اندھوں، بہروں اورلولوں لنگڑوںکواچھا نہیں کیاکرتاتھا مگرآپ کایہ عقیدہ ہے کہ مسیح جسمانی اندھوں جسمانی بہروں، جسمانی لولوں اور جسمانی لنگڑوں کو اچھاکیاکرتاتھا اورآپ کی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی برابر بھی ایمان ہو اور تم کسی پہاڑ سے کہو کہ یہاں سے وہاں چلا جائے تووہ چلاجائے گا (متی باب ۱۷ آیت ۲۰ و لوقا باب ۱۷ آیت ۶)۔اوراگر تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے توو ہ اچھے ہوجائیں گے (مرقس باب ۱۶ آیت ۱۸)۔پس یہ سوال مجھ سے نہیں ہوسکتا میں تووہ معجزے دکھا سکتاہوں جو میرے آقاحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائے آپ ان معجزوں کامطالبہ کریں تومیں دکھانے کے لئے تیار ہوں۔باقی رہے اس قسم کے معجزے سو آپ کی کتاب نے بتادیاہے کہ ہر وہ عیسائی جس کے اند رایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو ویسے ہی معجزے دکھاسکتاہے جیسے حضرت مسیح ناصری نے دکھائے۔سوآپ نے بڑی اچھی بات کی جو ہمیں تکلیف سے بچا لیااوران اندھوں ،بہروں، لولوں اور لنگڑوں کو اکٹھاکردیا اب یہ اندھے بہرے لولے اورلنگڑے موجود ہیں اگرآپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان موجود ہے توان کو اچھاکرکے دکھادیجئے۔آپ فرماتے تھے اس جواب سے پادریوں کو ایسی حیرت ہوئی کہ بڑے بڑے پادری ان لولوں لنگڑوں کو کھینچ کھینچ کرالگ کرنے لگ گئے۔تواللہ تعالیٰ اپنے مقربین کو ہرموقعہ پر عزت بخشتا ہے۔اوران کوایسے ایسے جواب سمجھاتاہے جن کے نتیجہ میں دشمن بالکل ہکا بکارہ جاتاہے۔قادیان میں ایک دفعہ پادری زویمر آیا جودنیا کامشہورترین پادری اورامریکہ کارہنے والاتھا۔وہ وہاںکے ایک بہت بڑے تبلیغی رسالہ کا ایڈیٹربھی تھا۔اوریوں بھی ساری دنیاکی عیسائی تبلیغی سوسائیٹیوں میں ایک نمایاں مقام رکھتاتھا۔اس نے قادیان کابھی ذکر سناہواتھا۔جب وہ ہندوستان میں آیا تواورمقامات کودیکھنے کے بعد وہ قادیان آیا اس کے ساتھ ایک اورپادری گارڈن نامی بھی تھا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت زندہ تھے۔انہوںنے اسے قادیان کے تمام مقامات دکھائے۔مگرپادری آخر پادری ہوتاہے نیش زنی سے باز نہیں رہ سکتا۔ان دنوں قادیان میں ابھی ٹائون کمیٹی نہیں بنی تھی۔اورگلیوں میں بہت گند پڑارہتاتھا۔پادری زویمر باتوں باتوں میں ہنس کرکہنے لگا ہم نے قادیان بھی دیکھ لیا اورنئے مسیح کے گائوں کی صفائی بھی دیکھ لی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسے ہنس کرکہنے لگے۔پادری صاحب ابھی پہلے مسیح کی ہی ہندوستان پر حکومت ہے اوریہ اس کی صفائی کانمونہ ہے۔