تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 345
نے اس سے پوچھا کہ بتائو میری باتیں کیسی ہیں۔پیرا کہنے لگا۔مولوی صاحب۔میں توان پڑ ھ اورجاہل ہوں۔مجھے نہ کوئی علم ہے اورنہ میں مسئلے سمجھ سکتاہوں۔لیکن ایک بات ہے جو میں بھی سمجھ سکتاہوں اوروہ یہ کہ میں سالہاسال سے بلٹیاں لینے اورتاریں دینے کے لئے یہاں آتاہوں اورمیں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسٹیشن پرآآکر لوگوں کو قادیان جانے سے منع کرتے ہیں۔آپ کی اب تک شایداس کوشش میں کتنی ہی جوتیاں گھِس گئی ہوں گی۔مگرپھر بھی آپ کی کوئی نہیں سنتا۔اورمرزا صاحب قادیان میں بیٹھے ہیں پھر بھی لوگ ان کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔آخر کوئی بات توہے جس کی وجہ سے یہ فرق ہے۔اب دیکھو !یہ کیسالطیف اورصحیح جواب ہے۔وہ فی الحقیقت دینی مسائل کونہیں سمجھ سکتا تھا اوروہ نہیں جانتا تھا کہ دلائل کیا ہوتے ہیں۔مگر فطرت کے لگائو اورمحبت کی وجہ سے اس نے فوراً سمجھ لیاکہ یہ شخص بہر حال جھوٹ بول رہاہے۔تواللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بعض دفعہ ایسی باتیں سمجھا دیتاہے کہ انسان کی عقل دنگ ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے پاس سارے سامان ہیں۔اورجس چیز کی کمی ہووہ اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔عقل کی کمی ہوتووہ اس کے پاس موجود ہے جرأت کی کمی ہوتووہ اس کے پاس موجود ہے سخاوت کی کمی ہوتووہ اس کے پاس موجود ہے۔صحت کی کمی ہوتووہ اس کے پاس موجود ہے۔عزت کی کمی ہو تو اس کے پاس موجود ہے۔مال کی کمی ہوتو وہ اس کے پا س موجود ہے۔غرض ہرچیز کے خزانے اس کے پا س موجود ہیں۔اوروہ اپنے بندوں کو ان خزانوں میں سے ایسے رنگ میں حصہ دیتاہے کہ انسان حیران ہوجاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ آتھم کے مباحثہ میں ہم نے جونظار ہ دیکھا اس سے پہلے توہماری عقلیں دنگ ہوگئیں اورپھر ہمارے ایمان آسمان پر پہنچ گئے۔فرماتے تھے کہ جب عیسائی مباحثہ سے تنگ آگئے اورانہوں نے دیکھا کہ ہماراکوئی دائو نہیں چلاتوچند مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملاکرانہوں نے ہنسی اڑانے کے لئے یہ شرارت کی کہ کچھ اندھے، کچھ بہرے کچھ لولے اور کچھ لنگڑے بلالئے اورانہیں مباحثہ سے پہلے ایک طرف چھپا کر بٹھا لیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے توجھٹ انہوں نے ان اندھوں بہروں اور لولوں لنگڑوں کونکال کر آ پؑ کے سامنے پیش کردیا۔اورکہا زبانی باتوں سے جھگڑے طے نہیں ہوتے آپ کہتے ہیں میں مسیح ناصر ی کامثیل ہوں اور مسیح ناصری اندھوں کو آنکھیں دیاکرتے تھے بہروں کو کان بخشاکرتے تھے اورلولوں لنگڑوں کے ہاتھ پائوں درست کردیاکرتے تھے۔ہم نے آپ کو تکلیف سے بچانے کے لئے اس وقت چند اندھے ، بہرے اورلولے لنگڑے اکٹھے کردیئے ہیں۔اگر آپ فی الواقعہ مثیل مسیح ہیں تو ان کو اچھا کرکے دکھادیجئے۔حضرت خلیفہ اول ؓ فرماتے تھے کہ ہم لوگوںکے دل ان کی اس بات کو سن کر بیٹھ گئے اورگوہم سمجھتے تھے کہ یہ بات یوںہی ہے