تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 323

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ اگر ہم چاہیں توآسمان سے ان پرایک ایسانشان اتاردیں کہ اس کے سامنے ان کی گردنیں لَهَا خٰضِعِيْنَ۰۰۵وَ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ جھکی کی جھکی رہ جائیں۔اوررحمٰن کی طرف سے کبھی کوئی نیا ذکر نہیں آتا کہ جس سے لو گ اعراض نہ کرتے مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ۰۰۶فَقَدْ كَذَّبُوْا ہوں۔سو(چونکہ)انہوں نے (خدا تعالیٰ کی آیتوںکو)جھٹلایاہے اس کے نتیجہ میں ان کے استہزاء کی فَسَيَاْتِيْهِمْ۠ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠۰۰۷ حقیقت ضرور ان پر کھل جائے گی۔حلّ لُغَات۔اَعْنَاقٌ۔اَعْنَاقٌ عُنْقٌ کی جمع ہے اور اَلْعُنُقُ کے معنے گردن کے ہیں۔اسی طرح اس کے معنے ہیں الرُّؤَسَآءُ سردارانِ قوم۔اَلْجَمَاعَۃُ مِنَ النَّاسِ لوگوں کی جماعت (اقرب) خَاضِعِیْنَ۔خَاضِعِیْنَ خَاضِعٌ کی جمع ہے جو خَضَعَ سے اسم فاعل ہے اورخَضَعَ لَہٗ کے معنے ہیں اِنْقَادَ مطیع ہوگیا۔پس خَاضِعٌ کے معنے ہوں گے جھکنے والا، مطیع ہونے والا۔(اقرب) مُحْدَثٍ۔مُحْدَثٍ کے معنے ہیں نَقِیْضُ الْقَدِیْمِ یعنی نیا(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔اگرہم چاہیں توآسمان سے ہم ان پر ایساعذاب نازل کریں کہ جس کی وجہ سے مجبورہوکر ان کی گردنیں جھک جائیں۔اوریہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے لگ جائیں۔لیکن اگرہم ایساکریں توپھران کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتاکیونکہ ایمان اسی حالت میں انسان کے لئے فائدہ بخش ثابت ہو سکتا ہے جب خیر اورشر دونوں مخفی ہوں۔جو چیز کھلے طورپر نظر آرہی ہو اس پر ایمان لانے سے کوئی انعام میسر نہیں آیاکرتا۔جیسے سورج ایک خیر رکھنے والی چیز ہے اوراس کاوجود قطعی طور پر ظاہر ہے۔لیکن سورج کے وجود کو تسلیم کرلینا انسان کوکسی انعام کامستحق نہیں ٹھہراسکتا۔اوراگر کوئی کہے کہ جب تمہیں محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لانے سے انعا م ملے گا توہمیں سورج پر ایمان لانے سے کیوں انعام نہیں مل سکتا۔توہم اسے یہی کہیں گے