تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 322

حصہ تک پہنچا دیتاہے اورقریب ہوتاہے کہ اگرذراسابھی اور زورلگ جائے۔تواس کی گردن کٹ کر پرے جا پڑے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کو ہلاک کرنے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی تھی۔اوراگرآپ کی جان بچی تواس کے یہ معنے نہیں کہ آپ نے کوئی کمی کی تھی بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی غیر معمولی حفاظت فرمائی ورنہ آپؐ نے اپنی جان کو ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ امتیازی خصوصیت جواللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے اس میں مومنوں کے لئے بھی بڑابھاری سبق ہے اورانہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر تم ترقی کرناچاہتے ہو تواپنی قربانیوںکواس حد تک پہنچائو کہ دشمن کی نظر میں تووہ صریح خود کشی ہو۔مگر تم جانتے ہو کہ و ہ خود کشی نہیں بلکہ اسی میں تمہاری ابدی حیات کاراز مضمر ہے۔قرآن کریم میں جنگ اُحد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت منافق کہتے تھے کہ اگر ہمیں علم ہوتاکہ لڑائی ہوگی توہم ضرور ساتھ دیتے (آل عمران آیت ۱۶۸) اس کے یہ معنے نہیں کہ انہیں علم نہیں تھا کہ لڑ ائی ہو گی بلکہ بات یہ ہے کہ انہوں نے مشورہ دیاتھاکہ لڑائی کے لئے مدینہ سے باہر نہ نکلیں۔اوراس پر دوروز بحث ہوتی رہی۔پس منافق باہر نکل کر لڑنے کو خود کشی قراردیتے تھے اورجب وہ یہ کہتے تھے کہ اگر ہمیں لڑائی کاعلم ہوتاتوہم ضرور جاتے تواس کامطلب یہ ہوتاکہ ہم تواسے لڑائی نہیں بلکہ خود کشی سمجھتے تھے۔اس لئے شامل نہ ہوئے۔تواللہ تعالیٰ اپنی مومن جماعت کے سپر د ہمیشہ ایسے کام کرتاہے جنہیں لو گ خودکشی سمجھتے ہیں۔ان جماعتوںسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں اپنے اموال اپنے اوقات اور اپنی عزت و آبروغرض سب کچھ قربان کردینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ پاگل ہیں جواتنی بڑی قربانیاں کررہے ہیں اورمنافق بھی کہتے ہیں کہ یہ بیوقوف لوگ ہیں جو ہمیں بھی بیوقوف بناناچاہتے ہیں اورکہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح قربانی کروجس طرح ہم کررہے ہیں۔غرض منافق بھی اورمخالف بھی سب اسے ہلاکت سمجھتے ہیں مگر مومن جانتے ہیں کہ یہ ہلاکت نہیں بلکہ زندگی کو قائم رکھنے کاذریعہ ہے۔پس لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَمیں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک بے مثال خصوصیت اورآپ کی شفقت علیٰ خلق اللہ کاایک بے نظیر نمونہ ہی پیش نہیں کیاگیا بلکہ مومنوںکویہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرناچاہتے ہو تو اپنی قربانیوںکو اس حد تک پہنچا دو کہ دوست اوردشمن کی نگاہ میں تمہاری گردن کٹنے کے قریب پہنچ جائے اورہرشخص یہ سمجھے کہ تم موت کے منہ میں جارہے ہو۔یہی وہ مقام ہے جو روحانی جماعتوںکوحاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر انہیں ابدی حیات حاصل نہیں ہوسکتی۔