تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 324

کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا علم چونکہ جستجو اورجدوجہد اورقربانی کے نتیجہ میں ہوتاہے۔اس لئے آپ پرایمان لانا انسان کو اللہ تعالیٰ کے روحانی انعامات کامستحق بنادیتاہے مگر سورج پر ایمان لانے کے لئے چونکہ کسی جدوجہد جستجواورقربانی کی ضرورت نہیں ہوتی اوراس کی حقیقت کلی طورپر ظاہر ہوتی ہے اس لئے اس پر ایمان لانے سے کوئی انعام نہیں مل سکتااوراگر اس جواب پر بھی کو ئی شخص یہ اعتراض کرے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں توآ پ کے ماننے والوںکو قربانیاں کرنی پڑیں جس کی وجہ سے وہ انعام کے مستحق ہوئے مگر آپؐ کے بعد والوںکوتوکوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی اورپھر انہیں انعام کامستحق کیوں قراردیاجاتاہے تواس کا جواب یہ ہے کہ بےشک نسلی مسلمانوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی مگرانہیں اپنے ایمان کوقائم رکھنے کے لئے ہروقت قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔کیونکہ اسلام کےہرحکم کے بارہ میں ان کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم اس پر کیوںعمل کریں اوراس کیوں کے جواب کے لئے انہیں نماز اورروزہ اورحج اورزکوٰۃ کے تمام پہلوئوں پر غور کرناپڑتا ہے اورپھر ان احکام پر عمل کرنے کے لئے انہیں ہروقت قربانی اورجدوجہد کے دور میں سے گذرنا پڑتا ہے۔پس قربانیوں سے کوئی مسلمان بھی مستثنی نہیں۔صحابہؓ نے ایمان لانے کے لئے قربانیاں کی تھیں اوربعد میں آنے والے مسلمانوںکو اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لئے قربانیاں کرنی پڑتی ہیںپس چونکہ روحانی انعامات کاحصول قربانیوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کبھی ایسے نشانات ظاہر نہیں کرتا جو اتنے کھلے اورواضح ہوں کہ شدید سے شدید معاند بھی ان کو دیکھ کر سر جھکادیں اورایمان لانے کے لئے دوڑ پڑیں اوران کے لئے انکارکرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔کیونکہ اگرایساہوتو پھر ان کاایمان لانا ایک قسم کے جبر کا نتیجہ ہوگا اوراللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتاکہ لو گ کسی جبر کے نتیجہ میں ایمان قبول کریں اوراس طرح اپنے انعامات کو باطل کردیں۔مگر افسوس ہے کہ ا تنی واضح آیت کی موجودگی میں بھی مسلمانوں نے جبر اورقدرؔ کے مسئلہ پر بحثیں شروع کردیں اوریہ نظر یہ قائم کرلیا کہ اللہ تعالیٰ بھی بعض باتوں میں جبرسے کام لیتا ہے۔چنانچہ آج بھی جب کسی مسلمان سے پوچھا جائے کہ تمہاری مشکلات کاکیا باعث ہے تو وہ ایک سرد آہ کھینچ کرکہہ دے گاکہ ’’ہماری قسمت ‘‘وہ یہ نہیں کہے گاکہ چونکہ ہمارے اند ر بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں اورہم نے قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا اورخدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہدایات پر چلنا چھوڑ دیاہے اس لئے ہم پر مصائب آرہے ہیں بلکہ وہ یہ کہہ کر کہ ’’ہماری قسمت‘‘اس کی ساری ذمہ داری خدا تعالیٰ پر ڈال دے گا۔حالانکہ یہ آیت بتاتی ہے کہ اگراللہ تعالیٰ نے جبر ہی کرناہوتا تووہ نیکی اورہدایت پر جبر کرتااور ایسے نشانات نازل کرتا جن سے بڑے بڑے