تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 305
کہ ہمارانبی ہم سے پکار پکارکرکہتاہے کہ خدایا باوجود یکہ میں اپنی قوم کے لئے امن کاپیغام لایاتھا وہ اس کی قدر کرنے کی بجائے میری مخالفت پر کمر بستہ ہو گئی ہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے میرے امن کو بالکل برباد کردیا۔مگرفرمایا۔فَاصْفَحْ عَنْھُمْ۔ہم نے اپنے نبی سے یہ کہا ہے کہ ابھی ان لوگوںکوتیری تعلیم کی عظمت معلوم نہیں اس لئے وہ غصہ میں آجاتے اورتیری مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں توان سے درگذر کر۔کیونکہ ہم نے تجھے امن کے قیام کے لئے ہی بھیجا ہے وَقُلْ سَلَامٌ۔اورجب تجھ پریہ لوگ حملہ کریں اورتجھے ستائیں توتویہی کہتا رہ کہ میں تو تمہارے لئے سلامتی لایاہوں فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ عنقریب دنیا کومعلوم ہوجائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا کے لئے امن لایا تھا۔لڑائی نہیں لایاتھا۔گویا وہ امن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لائے وہ صرف مومنوں کے لئے ہی امن نہ رہا۔بلکہ سب کے لئے امن ہوگیا۔پھر صرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہی نہیں بلکہ تمام مومنوںکو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(الفرقان :۶۴) وہ جاہل جو اسلام کی غرض و غایت کونہیں سمجھتے جب مسلمانوں سے لڑناشروع کردیتے ہیں۔تومومن کہتے ہیں کہ ہم توتمہاری سلامتی چاہتے ہیں چاہے تم ہمارابُراہی کیوں نہ چاہو۔جب دشمن کہتاہے کہ تم کیسے گندے عقائد دنیا میں رائج کررہے ہو۔تووہ کہتے ہیں یہ گندے عقائد اوربیہودہ باتیں نہیں۔بلکہ سلامتی کی باتیں ہیں۔گویارسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی لائی ہوئی سلامتی صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے ہی نہیں بلکہ مومنوں کے لئے بھی ہے۔اورصرف مومنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔پھر سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ سلامتی عارضی ہے یامستقل۔کیونکہ یہ توہم نے ماناکہ السَّلام خدا سے امن لاکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا کو دیا۔مگر بعض امن عارضی بھی ہوتے ہیں جن کے نیچے بڑی بڑی خرابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں جیسے بخار کامریض جب ٹھنڈاپانی پیتاہے تواسے بڑاآرام محسوس ہوتاہے۔مگردومنٹ کے بعدیکدم اس کابخار تیز ہو جاتا ہے۔اورکہتاہے ’’آگ لگ گئی ‘‘پھر برف پیتاہے۔اورسمجھتاہے کہ آرام آگیا مگریکدم پھر اسے بے چینی شروع ہوجاتی ہے۔پس سوال ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوامن دے رہے ہیں یہ عارضی ہے یا مستقل؟اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے :وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ(یونس : ۲۶)کہ دنیا فسادوں کی طرف لے جاتی ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ جو تعلیم دی گئی ہے وہ موجودہ زمانہ ہی کے لئے نہیں۔بلکہ وہ ایک ایساامن ہے جو مرنے کے بعد بھی چلتاچلاجاتاہے اورجواس دنیا کے بعد ایک ایسے گھر میں انسان کو پناہ