تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 306

دیتاہے جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے گویایہ زنجیر ایک مکمل زنجیر ہے۔اس کے ماضی میں ایک سلام ہستی کھڑی ہے اس کے حال میں امن ہے کیونکہ ایک مدرسئہ امن جاری ہوگیاہے اورایک مدرّسِ امن خدا تعالیٰ نے بھیج کر امن کاکورس بھی مقررکردیا۔اورعملی طور پر ایک ایسی جماعت تیار کردی جو اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا کی مصداق ہے۔پس اس کے ماضی میں بھی امن ہے اوراس کے حاضر میں بھی امن ہے۔پھر اس کے مستقبل میں بھی امن ہے۔کیونکہ وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ مرنے کے بعدوہ انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جائے گا۔جہاں سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔پس یہ ساری زنجیر مکمل ہوگئی اورکوئی جزو تشنئہ تکمیل نہ رہا۔اس کے بعدقیام امن کے ذرائع کاسوال آتا ہے۔سواس کے متعلق بھی قرآن کریم روشنی ڈالتااور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان فرماتا ہے کہ وَکَیْفَ اَخَافُ مَآاَشْرَکْتُمْ وَلَاتَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا۔فَاَ یُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ۔اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔(الانعام : ۸۲) یعنی میرے دل کاامن ان بتوں کودیکھ کر کس طر ح برباد ہوجائے جن کو تم خدائے واحدکا شریک قراردے رہے ہو۔وَلَاتَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا حالانکہ تم اپنے دلوں میں جھوٹے طورپر مطمئن ہو۔خطرہ تمہارے ارد گرد ہے۔پس اگر تم عدمِ علم اورجہالت کے باوجود مطمئن ہو اور تمہاراعدم علم تم کوامن دے سکتاہے توتم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ میرا کامل علم مجھے امن نہیں بخش سکتا۔فَاَ یُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ تم بتائوان دونوں میں سے کس کو امن حاصل ہوگا؟اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔اگر تم حماقت کی باتیں نہ کرو اورعقل و خرد سے کام لو تو تم سمجھ سکتے ہوکہ کو ن مامون ہے اورکون غیر مامون۔اس جگہ امن کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے دوعظیم الشان گُر بیان کئے ہیں۔اول یہ کہ توحید کامل کے قیام کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جب تک توحید قائم نہ ہوگی اس وقت تک لڑائیاں جاری رہیں گی۔شرک کاصرف اتنا ہی مفہوم نہیں کہ کوئی ایک کی بجائے تین خدائوں کا قائل ہو۔بلکہ جب باریک در باریک رنگ میں شرک شروع ہوتاہے توکئی قسم کا شرک نظر آ نے لگ جاتاہے۔اس کے علاوہ جب مختلف مذاہب کی تعلیمیں مختلف ہیں ان کے خیالات مختلف ہیں تو اس حالت میں امن اس وقت تک قائم ہی نہیں ہوسکتا جب تک لوگوں کے اند رحقیقی مواخات پیدانہ ہو اورحقیقی مواخات ایک خداکے بغیر نہیں ہوسکتی۔دنیا میں اس بات پر تو لڑائیاں ہوجاتی ہیں کہ ایک کہتا ہے میرادادافلاں عظمت کا مالک تھا اوردوسراکہتاہے میراداداایساتھا۔مگر کبھی تم نے بھائیوںکو اس بات پر لڑتے نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک دوسرے کو کہے میں شریف النسب ہوں اور تم نہیں۔اسی طرح جب دنیا میں توحید کامل ہوگی۔تبھی