تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 304

اورمدّرسِ امن بھی بھیج دیا۔مدرّسِ امن محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اورامن کاکورس وہ کتاب ہے جو یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلَامِ کی مصداق ہے۔جوشخص خدا کی رضاحاصل کرناچاہتاہے۔اسے چاہیے کہ اس کتاب کو پڑھے اس میں جس قدر سبق ہیں و ہ سُبُلَ السَّلَامِ یعنی سلامتی کے راستے ہیں۔اورکوئی ایک حکم بھی ایسانہیں جس پر عمل کرکے انسانی امن برباد ہوسکے۔ایک بالاہستی کاوجودہی ہمارے ارادوں کو درست کرتاہے۔مدرسہ کاقیام ہماری عملی مشکلات کو حل کرنے میں مدد دیتاہے اورمحمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات اس کتا ب کی عملی تفسیر ہے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ میرے ذریعہ خدا تعالیٰ نے وہ کتاب بھیج دی ہے جس میں وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جن سے امن حاصل ہو سکتا ہے۔اب یہ سوال رہ جاتاہے کہ یہ امن جو اسلام قائم کرناچاہتاہے کس کے لئے ہے؟اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلَامٌ عَلیٰ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی(النمل:۶۰)یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو کہہ دے الحمدللہ سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے دنیا میں امن قائم کر دیا اور انسان کی تڑپ اور فکر کو دور کر دیا اور کہو وَسَلَامٌ عَلَی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی وہ بندے جو خدا تعالیٰ کے پسندیدہ ہوجائیں اوراپنے آپ کو اس کی راہ میں فداکردیں ان کے لئے بھی امن پیداہوجائے گا اوروہ بھی باامن زندگی بسر کرنے لگ جائیں گے۔یہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بتایاکہ تما م لو گ جوآپ کی اتباع کرنے والے اورآپ کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہیں ان کے لئے کامل امن ہے اوروہ اپنی زندگی کے کسی حصہ میں بھی بدامنی نہیں دیکھ سکتے۔پھر سوال پیدا ہوتاتھا کہ جب خدا سلام ہے تواس کی طرف سے امن ساروں کے لئے آناچاہیے۔نہ کہ بعض کے لئے۔کیونکہ اگر خالی اپنوں کے لئے امن ہوتو یہ کو ئی کامل امن نہیں کہلاسکتا۔اس کابھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جواب دیتاہے۔فرماتا ہے۔وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ھٰؤُ لَٓائِ قَوْمٌ لَّایُؤْمِنُوْنَ۔فَاصْفَحْ عَنْھُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(الزخرف: ۸۹۔۹۰)یعنی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی تعلیم لے کرآئے ہیں جوساروں کے لئے ہی امن کاموجب ہے اورہرشخص کے لئے وہ رحمت کا خزانہ اپنے اندر پوشیدہ رکھتی ہے۔مگرافسوس کہ لوگ اس کو نہیںسمجھتے۔بلکہ و ہ اس تعلیم کے خلاف لڑائیاں اورفساد کرتے ہیں جوان کے لئے نوید اورخوشخبری ہے یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوبھی یہ کہناپڑاکہ خدایامیں اپنی قوم کی طرف امن کا پیغام لے کرآیا تھا مگر اِنَّ ھٰؤُ لَٓائِ قَوْمٌ لَّایُؤْمِنُوْنَ یہ قوم جس کے لئے میں امن کاپیغام لایاتھا یہ تومجھے بھی امن نہیں دے رہی اٰمَنَ کے معنے ایمان لانے کے بھی ہوتے ہیں اور اٰمَنَ کے معنے امن دینے کے بھی ہوتے ہیں (اقرب)وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ھٰؤُ لَٓائِ قَوْمٌ لَّایُؤْمِنُوْنَمیں اسی امر کا ذکر ہے