تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 303

کاپتہ مل گیا۔توانسان کے دل میں یہ معلوم کرنے کی بھی خواہش پیداہوجاتی ہے کہ آیا اس نے امن قائم کرنے کاکوئی سامان بھی کیاہے یانہیں۔کیونکہ اگر اس نے امن قائم کرنے کا کوئی سامان نہیںکیا تویہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم خود امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے تواس بات کا امکان ہو سکتا ہے کہ بجائے امن کے فساد پیداکردیں۔پس محض امن قائم کرنے کی خواہش انسان کو صحیح راستہ پر قائم نہیں کرسکتی جب تک ایک بالاہستی کی ایسی ہدایات بھی معلوم نہ ہوں جوامن قائم کرنے میں ممد اورمعاون ہوں۔کیونکہ اگر انسان کو اپنے بالا افسر کی خواہشات کا صحیح علم نہ ہو توانسان باوجود اس آرزو کے کہ و ہ اس کے احکام کی اطاعت کرے اسے پوری طرح خوش نہیں رکھ سکتا۔پس اگر ہمیں اپنے بالا افسر کی خواہش تومعلوم ہولیکن اس خواہش کو پوراکرنے کاطریق معلوم نہ ہو۔تب بھی ہماراامن قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ ممکن ہے ہم کوئی اورطریق اختیار کریں اوراس کا منشاء کو ئی اورطریق اختیار کرناہو۔پس ہمارے امن کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ و ہ بالاہستی ہمیں کوئی ایساذریعہ بھی بتائے جو امن قائم کرنے والاہو۔سوا س غرض کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں اوریہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اس نے کوئی ایساذریعہ بتایاہے یانہیں توسورئہ بقرہ میں اس کا جواب نظر آتاہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا(البقر ۃ:۱۲۶)یعنی یہ جو آسمان پر سلام خدا کی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اس کے لئے ضروری تھا کہ ہم ایک مرکز قائم کرتے جودنیا کوامن دینے والاہوتا۔سوہم نے بیت اللہ کومدرسہ بنایا۔یہاں چاروں طرف سے لوگ جمع ہوں گے اورامن کاسبق سیکھیں گے۔پس ہمارے خدا نے صرف خواہش ہی نہیں کی۔صرف یہ نہیں کہا کہ تم امن قائم کروورنہ میں تم کو سزادوں گا۔بلکہ اس دنیا میں اس نے امن کاایک مرکز بھی قائم کردیا اوروہ خانہ کعبہ ہے۔فرماتا ہے۔یہاں لوگ آئیں گے اورا س مدرسہ سے لوگ امن کاسبق سیکھیں گے۔پھریہ کہ اس مدرسہ کی تعلیم کیا ہوگی۔اس کے لئے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے خبر پاکر اعلان فرما دیا کہ قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلَامِ ( المائدۃ : ۱۶۔۱۷) یعنی اے لوگو!تم تاریکی میں پڑے ہوئے تھے۔تم کو یہ پتہ نہیں تھاکہ تم اپنے خدا کی مرضی کو کس طرح پوراکرسکتے ہو۔اس لئے دنیا میں ہم نے تمہارے لئے ایک مدرسہ بنادیاہے۔مگرخالی مدرسہ کام نہیں دیتا جب تک کتابیں نہ ہوں۔پس فرمایا قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ۔خدا کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور آیا ہے جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اوراس کے ساتھ ایک کتاب مبین ہے۔ایسی کتاب جو ہرقسم کے مسائل کو بیان کرنے والی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے امن کا مدرسہ بھی قائم کردیا۔امن کاکورس بھی مقرر کردیا