تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 302
کہہ کر قرآن کریم نے انسانی ارادوں کو پاک و صاف کردیا۔اوریہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جب تک ارادے درست نہ ہوں اس وقت تک کام بھی درست نہیں ہوسکتا۔دنیا میں اس وقت جتنے فساد اورلڑائیاں ہیں سب اسی وجہ سے ہیں کہ انسانوں کے ارادے صاف نہیں۔وہ منہ سے جوباتیں کرتے ہیں ان کے مطابق ان کی خواہشات نہیں اوران کی خواہشا ت کے مطابق ان کے اقوال اورافعال نہیں۔آج سب دنیا کہتی ہے کہ لڑائی بُری چیز ہے لیکن اس کامطلب صرف یہ ہوتاہے کہ اگر ہمارے خلاف کوئی لڑے تویہ بُری بات ہے لیکن اگر ان کی طرف سے جنگ کی ابتداہو تو یہ کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔اوریہ نقص اسی وجہ سے ہے کہ لوگوں کی نظر ایک ایسی ہستی پر نہیں جو سلام ہے۔وہ سمجھتے ہیں جہاں تک ہمارافائدہ ہے ہم ان باتوں پر عمل کریں گے مگر جب ہمارے مفاد کے خلاف کوئی بات آئے گی تواسے رد کردیں گے۔مگر قرآن کریم میں جوخدا تعالیٰ کے نام بتائے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ وہ سب کا خداہے کسی ایک کانہیں۔اوریہی عقیدہ حقیقی امن کی طرف دنیا کولاسکتاہے کہ دنیا کاایک خداہے جویہ چاہتاہے کہ سب لوگ امن سے رہیں۔جب ہمارایہ عقیدہ ہوگا تواس وقت ہماری خواہشات خود غرضی پر مبنی نہیں ہوں گی۔بلکہ دنیا کو عام نفع پہنچانے والی ہوں گی اس وقت ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ فلاں بات کا ہمیں فائدہ پہنچتاہے یانقصان بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کہ سار ی دنیا پر اس کاکیا اثر ہے۔یوں تودنیا ہمیشہ اپنے فائدہ کے لئے دوسروں کے امن کو برباد کرتی رہتی ہے۔لیکن اس عقیدہ کے ماتحت ایساکرنے کی جرأت اس میں نہیں ہوگی کیونکہ وہ سمجھے گی کہ اگر میں نے ایساکیا تو ایک بالا ہستی مجھے کچل کر رکھ دے گی۔جیسے ایک بچہ دوسرے کاکھلونا چھین لیتا ہے تووہ اپنے لئے امن حاصل کرلیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے کاامن بھی چھیناجاتاہے۔اورایک توخوش ہورہاہوتاہے اوردوسرارورہاہوتاہے۔ایسی حالت میں کیا تم سمجھتے ہو کہ ماں باپ یا استاد اگر وہاں موجود ہوں تو وہ اس کھیل کو جاری رہنے دیںگے ؟وہ کبھی اس کو برداشت نہیں کریں گے۔بلکہ جس بچہ نے کھلوناچھیناہوگا اس کاکھلونا واپس لے کر اس کے اصل مالک کو دے دیں گے۔اورجب و ہ ایساکرتے ہیں تب بچہ سمجھتا ہے کہ وہ امن جودوسرے کے امن کو برباد کرکے حاصل کیا جاتا ہے وہ کبھی قائم رہنے والانہیں ہوتا۔حقیقی امن وہی ہوتاہے جوایسی صورت میں حاصل ہو جب کہ کسی کے حق کو تلف نہ کیا گیاہو۔غرض حقیقی امن اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک ایک بالاہستی تسلیم نہ کی جائے اوریہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ امن دینے والا ہے صرف اسلام نے ہی پیش کیاہے اوراس نے کہا ہے کہ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ۔اس کے بعد وہ پیغام ہے جو اس ہستی کی طرف سے آتاہے۔کیونکہ جب ایک امن قائم رکھنے کی خواہشمند ہستی