تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 265
گرنے سے اسے کلی طورپر محفوظ کردیتا ہے۔لطیف کے دوسرے معنے جیساکہ اوپر بتایاجاچکا ہے اَلْعَالِمُ بِخَفایَا الاُمُورِ وَدَقَائِقِھَا کے ہیں۔یعنی ایسی ہستی جو تمام امور کے مخفی درمخفی پہلوئوں کو جاننے والی اورکائنات عالم کے تمام اسرار اورغوامض کاعلم رکھنے والی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے اس میں یہ اشار ہ کیا گیاہے کہ انسان کی نگاہ اپنے تمام علوم اورایجادات کے باوجود صرف ظاہر تک محدود رہتی ہے۔ا ن امور کے پس پشت جو اللہ تعالیٰ کا عظیم الشان غیب کام کررہاہوتاہے اورجو باریک د رباریک حکمتیں ان میں مخفی ہوتی ہیں ان سے وہ آگاہ نہیں ہوتا اوراگر کائنات عالم کے رموز اوراسرار اس پر منکشف ہوتے ہیں تواسی وقت جب اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ لطیف کے ماتحت اسے اپنے حقائق سے آشناکرتااوراخفاء کے پردوں کو اس کی آنکھوں سے دور کرتاہے۔اسی کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تولوگوں سے یہ کہہ دے کہ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ(الاعراف : ۱۸۹)یعنی اگر میں غیب کا واقف ہوتاتوبھلائیوں میں سے اکثر اپنے لئے جمع کرلیتااورمجھے کبھی کو ئی تکلیف نہ پہنچتی۔درحقیت اگر غور سے کام لیا جائے تواللہ تعالیٰ نے علم غیب کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر انسان کے لئے دوبرکتیں پیداکردی ہیں۔ایک برکت تو پر دئہ غیب کی وجہ سے اسے حاصل ہوتی ہے اورایک برکت کشف غیب کی وجہ سے اسے حاصل ہوتی ہے۔پردئہ غیب کی وجہ سے جو برکت اسے حاصل ہے وہ تو اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی ساری زندگی جدوجہدسے تعلق رکھتی ہے اورجدوجہد کی ساری بنیاد ہی غیب پرہے۔اگر غیب کا پردہ حائل نہ ہو تو سعی و عمل کاتمام سلسلہ ختم ہوجائے۔مثلاً بچوں کو ان کے والدین سکول میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں۔اوروہ بھی اگر محنتی اورذہین ہو ںتووہ سمجھتے ہیں کہ ہم اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دنیا میں عزت حاصل کرلیں گے۔لیکن کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ جب ان کا امتحان قریب آتا ہے توان میں سے بعض لڑکے بیماریوں یااچانک حادثات کی وجہ سے وفات پاجاتے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ نے علم غیب اپنے ہاتھ میں نہ رکھا ہوتا اورایک طالب علم کو یہ یقینی طور پر معلوم ہوتا کہ میں نے پندرہ سال کی عمر کو پہنچ کر مرجانا ہے۔تووہ اسی وقت سے مغموم رہنا شروع کردیتا۔اوراس کے والدین بھی رونے پیٹنے لگ جاتے اوروہ اپنی عمر کو بالکل ضائع کردیتا۔لیکن پردئہ غیب کے حائل ہونے کی وجہ سے وہ برابر محنت کرتا چلا جاتاہے۔اورگوبعد میں آکر وہ فوت ہو جاتاہے مگر جس طرح ایک ٹوٹنے والے ستارے کی روشنی سے بھی کئی بھولے بھٹکے مسافر راہ پالیتے ا ورکئی گڑھوں میں گرتے ہوئے سنبھل جاتے ہیں۔اسی طرح وہ دوسرے لڑکوں کے لئے ایسی روشنی چھو ڑجاتاہے جو ان کی ترقی کاموجب بن جاتی ہے۔کیونکہ کئی لڑکے ایسے تھے جن کے سامنے اگر