تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 266

لطیف کے دوسرے معنے جیساکہ اوپر بتایاجاچکا ہے اَلْعَالِمُ بِخَفایَا الاُمُورِ وَدَقَائِقِھَا کے ہیں۔یعنی ایسی ہستی جو تمام امور کے مخفی درمخفی پہلوئوں کو جاننے والی اورکائنات عالم کے تمام اسرار اورغوامض کاعلم رکھنے والی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے اس میں یہ اشار ہ کیا گیاہے کہ انسان کی نگاہ اپنے تمام علوم اورایجادات کے باوجود صرف ظاہر تک محدود رہتی ہے۔ا ن امور کے پس پشت جو اللہ تعالیٰ کا عظیم الشان غیب کام کررہاہوتاہے اورجو باریک د رباریک حکمتیں ان میں مخفی ہوتی ہیں ان سے وہ آگاہ نہیں ہوتا اوراگر کائنات عالم کے رموز اوراسرار اس پر منکشف ہوتے ہیں تواسی وقت جب اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ لطیف کے ماتحت اسے اپنے حقائق سے آشناکرتااوراخفاء کے پردوں کو اس کی آنکھوں سے دور کرتاہے۔اسی کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تولوگوں سے یہ کہہ دے کہ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ(الاعراف : ۱۸۹)یعنی اگر میں غیب کا واقف ہوتاتوبھلائیوں میں سے اکثر اپنے لئے جمع کرلیتااورمجھے کبھی کو ئی تکلیف نہ پہنچتی۔درحقیت اگر غور سے کام لیا جائے تواللہ تعالیٰ نے علم غیب کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر انسان کے لئے دوبرکتیں پیداکردی ہیں۔ایک برکت تو پر دئہ غیب کی وجہ سے اسے حاصل ہوتی ہے اورایک برکت کشف غیب کی وجہ سے اسے حاصل ہوتی ہے۔پردئہ غیب کی وجہ سے جو برکت اسے حاصل ہے وہ تو اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی ساری زندگی جدوجہدسے تعلق رکھتی ہے اورجدوجہد کی ساری بنیاد ہی غیب پرہے۔اگر غیب کا پردہ حائل نہ ہو تو سعی و عمل کاتمام سلسلہ ختم ہوجائے۔مثلاً بچوں کو ان کے والدین سکول میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں۔اوروہ بھی اگر محنتی اورذہین ہو ںتووہ سمجھتے ہیں کہ ہم اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دنیا میں عزت حاصل کرلیں گے۔لیکن کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ جب ان کا امتحان قریب آتا ہے توان میں سے بعض لڑکے بیماریوں یااچانک حادثات کی وجہ سے وفات پاجاتے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ نے علم غیب اپنے ہاتھ میں نہ رکھا ہوتا اورایک طالب علم کو یہ یقینی طور پر معلوم ہوتا کہ میں نے پندرہ سال کی عمر کو پہنچ کر مرجانا ہے۔تووہ اسی وقت سے مغموم رہنا شروع کردیتا۔اوراس کے والدین بھی رونے پیٹنے لگ جاتے اوروہ اپنی عمر کو بالکل ضائع کردیتا۔لیکن پردئہ غیب کے حائل ہونے کی وجہ سے وہ برابر محنت کرتا چلا جاتاہے۔اورگوبعد میں آکر وہ فوت ہو جاتاہے مگر جس طرح ایک ٹوٹنے والے ستارے کی روشنی سے بھی کئی بھولے بھٹکے مسافر راہ پالیتے ا ورکئی گڑھوں میں گرتے ہوئے سنبھل جاتے ہیں۔اسی طرح وہ دوسرے لڑکوں کے لئے ایسی روشنی چھو ڑجاتاہے جو ان کی ترقی کاموجب بن جاتی ہے۔کیونکہ کئی لڑکے ایسے تھے جن کے سامنے اگر اس کاوجود نہ ہوتا۔تووہ کبھی محنت نہ کرتے۔انہوں نے اگر محنت کی تواسی لئے کہ اس لڑکے کی محنت اورذہانت کو دیکھ کران کے دلوں میں بھی رشک پیداہوا۔اورانہوں نے بھی تعلیم میں دلچسپی لینی شروع کردی اوررفتہ رفتہ وہ ترقی کرگئے۔اسی طرح انسان اپنے دوستوں اوررشتہ داروں میں پھر تاہے۔جن میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دوستی خود غرضانہ ہوتی ہے۔یاو ہ اپنے دل میں اس کے خلاف کئی قسم کے منصوبے سوچتے رہتے ہیں۔یا اس کے رشتہ دار بظاہر اس سے محبت کرتے ہیں۔لیکن وہ اپنے دلوں میں اس کے بد خواہ ہوتے ہیں۔اگر پردئہ غیب حائل نہ ہوتا اور انسان کو پتہ لگ جاتا کہ میرافلاںدوست اپنے دل میں میرے متعلق اس قسم کے خیالات رکھتاہے یامیرافلاں رشتہ دارمیرابدخواہ ہے تو ایک قیامت برپاہوجاتی۔جس گھر میں دیکھو لڑائی ہورہی ہوتی۔ایک کہہ رہاہوتا کہ تم نے میرے خلاف فلاں فلاں بات کیوں سوچی تھی۔اوردوسراکہہ رہاہوتاکہ تمہارے دل میں میرے خلاف اس قسم کے خیالات کیوں آرہے تھے۔بیوی خاوند سے ناراض ہوتی اورخاوند بیوی سے ناراض ہوتا۔اورامن اورسکون دنیا سے اٹھ جاتا۔پس پردئہ غیب جو اللہ تعالیٰ نے حائل کررکھا ہے یہ اس کی ایک بڑی رحمت ہے۔پھر اگر پردئہ غیب نہ ہوتا تولڑائیوں میں تمام دنیا تباہ ہو کررہ جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اَلْحَربُ خُدْعَۃٌ ( ترمذی ابواب الجہاد، باب ما جاء فی الرخصۃ فی الکذب )یعنی لڑائی لڑنے کاساراکمال اس میں ہے کہ سب باتیں پردئہ اخفاء میں رہیں اورلڑنے والے اپنی سیاست اورتدبیر پر اعتماد کریں۔لیکن اگر پردئہ غیب نہ ہوتا اورجنگوں میں ایک طرف والوں کو پتہ لگ جاتا کہ ہمارادشمن اس وقت فلاں جگہ پر ہے تووہ اپنی توپوں کا منہ عین اسی طرف کردیتے جدھر دشمن ہوتا۔اسی طرح دوسری طرف سے بھی توپوں کے گولے عین اسی جگہ آکر گرتے۔جہاں دشمن موجود ہوتا اوراس طرح کوئی متنفس بھی نہ بچ سکتا۔اب توایساہوتاہے کہ اگر ایک لاکھ فوج میدان میں جاتی ہے تواس میں سے چند ہزار مرجاتے ہیں اورباقی فوج صحیح وسلامت رہتی ہے۔لیکن اگر پردئہ غیب نہ ہوتا اورفریقین کو ایک دوسرے کے حالات کاعلم ہوجاتا۔تونشانہ عین دشمن پر بیٹھتا اورکو ئی شخص بھی محفوظ نہ ر ہ سکتا۔اسی طرح سائینس کی ترقی اورعلوم جدیدہ کے انکشاف کی بنیاد بھی غیب پر ہی ہے۔اگر ہرچیز ظاہر ہوتی تو سعی و عمل اورایجادات کاتمام سلسلہ ختم ہوجاتا اورانسان ایک ناکارہ وجو د بن کر رہ جاتا۔غرض دنیاکے تمام کاروبار غیب پر چل رہے ہیں اگر غیب نہ رہے تودنیا کاتمام کارخانہ بھی ختم ہوجائے۔اسی طرح روحانی عالم میں جزاء و سزا کی بنیاد بھی پردئہ غیب پر رکھی گئی ہے۔اگرپردئہ غیب ہٹادیاجائے تونہ نیکی قابل جزا سمجھی جائے اورنہ بدی سے اجتناب قابل ثواب سمجھا جائے۔