تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 264
ساراسامان تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہؓ کو دیاتھا۔وہ یہ سنتے ہی بے اختیار کہنے لگا۔آپ میری ناک کاٹناچاہتے ہیں۔حضر ت خلیفہ او ل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہاری ناک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک سے بھی بڑی ہے۔تمہاری عزت تو سیّد ہونے میں ہے۔پھر اگر اس قدر جہیز دینے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں ہوئی تو تمہاری کس طرح ہوسکتی ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ آج ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی دنیوی نعمتوں کے لحاظ سے اس سے زیادہ نعمتیں رکھتا ہے جتنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پائیں مگرا س کا دل محبت کے جذبات سے خالی ہوتاہے۔وہ ہزاروں گنا زیادہ نعمتیں دیکھ کر بھی اپنے رب کا شکریہ ادانہیں کرتا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خدا تعالیٰ کے شکر کے جذبات اس قسم کے پائے جاتے تھے کہ آسمان سے جب بارش برستی تووہ زمیندار جس کی کھیتیاں اس بارش سے تیار ہوتیں خاموشی کے ساتھ گذر جاتا۔اسے پانی جمع کرتے ہوئے کبھی خیال بھی نہ آتا کہ یہ کہاں سے آگیاہے۔وہ شہر جن میں کنوئیں نہیں ہوتے اورجہاں کے رہنے والے بارش پر تالابو ں میں پانی جمع کرلیتے ہیں تاکہ سال بھر ان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں وہ بھی اپنے لئے اوراپنے جانوروں کے لئے پانی جمع کرتے مگران کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدانہ ہوتاکہ ان کے رب نے ان پر یہ کتنا بڑا احسان کیاہے کہ وہ سورج کی شعاعوں کے ذریعے سمندروں کا پانی بخارات کی صورت میں تبدیل کرتا اورپھر ہوائوں کے ذریعے ان کے ملک میں لاکر برسادیتاہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے نہ تالاب تھے نہ کھیتیاں تھیں نہ جانور تھے بارش آتی توآپؐ کمرہ سے نکل کر باہر صحن میں آجاتے۔اپنی زبان باہر نکال لیتے اورجب اس پر پانی کا قطرہ گرتا توآپؐفرماتے۔یہ میرے رب کاتاز ہ احسان ہے۔یہ محبت اورپیار کاکیسا دلفریب رنگ ہے۔لوگ پلائو اورزردہ کھا کربھی خدا تعالیٰ کی محبت کاجوش اپنے دلوں میں نہیں پاتے اوراس کے فضلوں کے شکر گذار نہیں ہوتے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے محبت اس پایہ کی تھی کہ آپؐ اپنی زبان باہر نکال کر اس پر بارش کا قطرہ لیتے اورخدا تعالیٰ کی اس تازہ نعمت کاشکر اداکرتے۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں بار بار اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اداکرو۔اوراس کے احسانات کوہمیشہ یا د رکھو۔جب انسان ہر چیز کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتا اوراس کی نعمتوں کی قدر کرتاہے تواسے ایک ایسی سیڑھی مل جاتی ہے جو اسے خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتی ہے۔نہ شیطان اس کی راہ میں روک بنتا ہے اورنہ اس کا نفس اسے نیچے گراسکتا ہے۔وہ اس سیڑھی پر چڑھتے ہوئے سیدھا خدا تک پہنچ جاتا ہے۔کیونکہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ دیکھ کر شکر کامادہ پیداہو جاتا ہے جواسے اوپر ہی اوپر لے جاتا ہے نیچے