تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 246

اسلام نے صفات الٰہیہ کا ایک ایسامکمل نقشہ پیش کیا ہے جوپہلی الہامی کتب میں سے کسی کتا ب میں بھی نہیں پایاجاتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی ہستی کو پیش کرنے کاسوال ہے دنیا کی ہرالہامی کتا ب نے اُس کے وجود کو پیش کیا ہے اوراس پر ایمان لانے کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔کیونکہ مذہب کانقطئہ مرکزی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اوراگر کوئی مذہب اللہ تعالیٰ کو ہی پیش نہ کرے تو اُس کاوجود اورعدم برابر ہو جاتا ہے۔مگریہ کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات میں کیا صفات رکھتا ہے یااپنے بندوں سے وہ کس رنگ میں تعلقات رکھتا اوران سے سلوک کرتاہے۔اِن امور پران کتب میں کوئی تفصیلی روشنی نہیں ڈالی گئی۔صرف یہ کہہ دینا کہ ہماراخدامحبت ہے(یوحنا باب ۴ آیت ۸) یا ہمارا خدا بڑا دیالو اورکرپالو ہے اُس کی صفاتِ حسنہ کا کوئی حقیقی اورصحیح نقشہ نہیں کہلاسکتا۔بلکہ اس قسم کی صفات کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا دنیوی خیالات اوررجحانات کابھی نتیجہ کہلاسکتاہے۔مثلاً جب دیکھا کہ لو گ رحم کرنا پسند کرتے ہیں توکہہ دیا کہ خدا تعالیٰ بھی بڑارحم کرنے والا ہے یاجب دیکھا کہ لوگ حسنِ سلوک کو بڑااچھا وصف سمجھتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے متعلق بھی کہہ دیا کہ وہ بڑاکرپالو ہے۔پس محض چند صفات کے ذکر سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ پہلے مذاہب نے اس مسئلہ پر کوئی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔پھر اگر بعض صفات کا ان کتب میں ذکر موجو د بھی ہے تو ان صفات کی تشریح ان میں موجود نہیں اور نہ ہی صفات الٰہیہ کا باہمی تعلق واضح کیا گیا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے رئویا میں دیکھا کہ ایک جرمن نو مسلم نے مجھ سے کوئی سوال کیا ہے جس کے جواب میںمَیں نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پیش کی ہیں جن میں سے ایک ربّ بھی ہے۔اس پر اُس جرمن نو مسلم نے کہا کہ ان صفات کا ذکر تو بائیبل میں بھی آتا ہے۔اس فقرہ کے دونوں معنے ہوسکتے تھے۔یہ بھی کہ چونکہ بائیبل میں بھی بعض صفات کا ذکر ہے اس لئے یہ دلائل عیسائیوں پر بھی اثر کرسکتے ہیں اور یہ معنے بھی ہوسکتے تھے کہ گویا قرآن کریم بائیبل کی نقل کرتا ہے۔میں نے ان دونوں معنوں کا خیال کر کے دل میں سوچا کہ یہ نو مسلم ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ قرآن کریم کی بہت سی تعلیم با ئیبل سے ملتی جلتی ہے پھر اس کی فضیلت کیا ہوئی ؟ اس خیال کے پیدا ہونے پر میںنے بڑے جوش سے ان کے سامنے تقریر شروع کی کہ بائیبل میں جو یہ صفات آئی ہیں ان سے قرآنی صفات کو امتیا ز حاصل ہے۔بائیبل میں محض رسمی ناموں کے طور پر وہ صفات بیان کی گئی ہیں اور قرآن کریم نے ان صفات کی باریکیوں کو بیان کیا ہے اور ان مضامین میں وسعت پید اکی ہے اور ان کے راز بیان کئے ہیں۔چنانچہ میں نے کہا۔دیکھو ربّ کا لفظ ہے بائیبل نے بھی خدا تعالیٰ کو پیدا کرنے والا یا پالنے والا کہا ہے یا زمین و آسمان کا خالق کہا ہے۔لیکن قرآن کریم یہ نہیں کہتا بلکہ قرآن کریم سورئہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ کو ربُّ الْعَالَمِیْنَ