تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 247
کے طور پر پیش کرتاہے اور لفظ ربّ اور لفظ عالمین دونوں اپنے اندر امتیازی شان رکھتے ہیں۔ربّ صرف اسی مضمون پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ پیدا کرنے والا ہے اور پالنے والا ہے بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ نہایت ہی مناسب طور پر انسان کی باریک در باریک قوتوں اور طاقتوںکو درجہ بدرجہ اور مناسبِ حال ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔اور عالمین کا لفظ محض زمین اور آسمان پر دلالت نہیں کرتا بلکہ زمین و آسمان کے علاوہ مختلف اصناف کی مختلف کیفیتوں پر بھی دلالت کرتا ہے اور یہ مضمون پہلی کتب میں بالکل بیان نہیں ہوا۔مثلاً عالمین میں جہاں یہ مراد ہے کہ اس جہان کا بھی ربّ ہےاگلے جہان کا بھی ربّ ہے۔آسمانو ں کا بھی ربّ ہے اور زمینوں کا بھی ربّ ہے۔وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالمِ اجسام اور عالمِ ارواح اور عالمِ نساء اور عالمِ رجال اور پھر عالم فکر اور عالمِ شعوراور عالمِ تصور اور عالمِ تقدیراور عالمِ عقل ان سب کا بھی وہ ربّ ہے یعنی وہ صرف روٹی ہی مہیا نہیں کرتا۔وہ صرف انہی چیزوں کو مہیا نہیں کرتا جو جسموں کو پالنے والی ہیں بلکہ وہ ارواح کے پالنے کا بھی سامان کرتاہے اورپھر مختلف تقاضے جو انسان کی فطرت میں پائے جاتے ہیں ان میں سے ہرایک کی نشوونما کے لئے اس نے قرآن کریم میں تعلیم دی ہے۔چنانچہ اس قسم کے مضمون پر میں تفصیلی لیکچر ان کے سامنے دے رہا ہوں اور خود مجھے بھی نہایت لذت اور سرور حاصل ہورہا ہے اور میں محسو س کرتا ہوں کہ ایک نیا مضمون اورنئی کیفیت میرے اندر پید اہو رہی ہے۔یہی لیکچر دیتے دیتے میری آنکھ کھل گئی۔غرض اول تو ان کتب میں صفات الٰہیہ پر نہایت اجمالی رنگ میں روشنی ڈالی گئی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی حقیقی شان جلوہ گر نہیں ہوتی۔اور پھر جن صفات کا ذکر کیاگیا ہے ان کی بھی تشریح نہیں کی گئی اور نہ ہی صفات الٰہیہ کے باہمی ربط اور تعلق کو واضح کیا گیا ہے۔لیکن اسلام نے اس بارہ میں ایک جامع تعلیم بنی نوع انسان کے سامنے پیش کی ہے اوربتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے اندر دو قسم کی جلوہ گری رکھتی ہیں۔اس کا ایک جلوہ تو صفات ؔتنزیہی کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو ان تمام قسم کی کثافتوں سے جو مادیّات میں پائی جاتی اور مخلوقات میں دکھائی دیتی ہیں منزّہ اور پا ک ٹھہراتا ہے۔اور ایک جلوہ صفاتِ تشبیہی کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے یعنی ایسی صفات کی شکل میں جو مخلوق کی صفات کے مشابہ نظر آتی ہیں چنانچہ وہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو تمام کائنات کا نقطئہ مرکزی ہے وہ اَحَدٌ یعنی اپنی ذات میںاکیلا اور منفرد ہے۔وہ الصَّمَدُ یعنی ایسی ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں مگر وہ کسی کا محتاج نہیں۔وہ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ہے۔یعنی نہ تو اس سے آگے کوئی اولادپیداہوتی ہے اورنہ وہ خود کسی کی اولاد میں سے ہے۔و ہ لَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُواً اَحَدٌ ہے۔یعنی