تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 245

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں)اللہ (تعالیٰ) کانام لے کر جو بے حدکرم کرنے والا (اور)بار بار رحم کر نے والا ہے (پڑھتا ہو ں) طٰسٓمّٓ۰۰۲تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۰۰۳ طاہرؔ(اور)سمیعؔ (اور)مجید (خدا اِس سورۃ کا نازل کرنے والا ہے) یہ آیتیں اس کتا ب کی ہیں جو (اپنے مضامین لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۰۰۴ کو )کھول کر بیان کرتی ہے۔شاید تُو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔حلّ لُغَات۔مُبِیْنٌ مُبِیْنٌ اَبَانَ سے اسم فاعل کاصیغہ ہے اوراَبَانَ لازم اورمتعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔یعنی کبھی اِس کے معنے ظاہر کرنے کے ہوتے ہیں اور کبھی ظاہر ہونے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ اقرب الموارد میں لکھا ہے۔اَبَانَ الشَّیْءُ اِتَّضَحَ یعنی اَبَانَ الشَّیْئُ کے معنے ہوتے ہیں فلاں چیز ظاہر ہوگئی اوراَبَانَ فُلَانٌ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں اَوْضَحَہٗ کسی بات کو خوب واضح اورنمایاں کیا۔(اقرب الموارد) بَاخِعٌ باخع بَخَعَ سے اسم فاعل کاصیغہ ہے۔اوربَخَعَ بِالشَّاۃ کے معنے ہیں بَلَغَ بِذَبْحِھَا الْقَفَا۔بکری کی گردن پر چھری چلاتے اور اُسے ذبح کرتے ہوئے کوئی شخص اس کی گردن کے آخری حصہ تک اپنی چُھری لے گیا (اقرب) نیز اَلْبَخَعُ بَخَعَ کامصد رہے۔اوراس کے معنے ہیں قَتْلُ النَّفْسِ غَمًّا اپنے نفس کو غم کی وجہ سے ہلاک کردینا۔(مفردات) تفسیر۔طٰسٓمٓ جو حروف مقطعات میں سے ہیں اِن میں سے ط لطیف کا سؔسمیع کا اورمؔ مجید کاقائم مقام ہے۔گویا اس سورۃ اوراس کی تابع سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے محسنِ عظیم ہونے اُس کے مخفی سے مخفی رازوں سے واقف ہونے۔اپنے بندوں کی دعائیں سننے اوراس کے مجید ہونے پر یعنی ان قوانین پر جن سے اُس کی اعلیٰ اوربلند شان ظاہر ہوتی ہے ظلم اورجبر ثابت نہیں ہوتا روشنی ڈالی گئی ہے۔اوراس کے دلائل دیئے گئے ہیں۔(مقطّعات کی تفصیلی بحث کے لئے دیکھیں تفسیر کبیر سورۃ یونس) اسلام کو دوسرے مذاہب پر جو امتیاز ی خصوصیات حاصل ہیں ان میں سے ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ