تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 222

میں مبتلا دیکھے جاتے ہیں۔مگر چونکہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے اس لئے رفتہ رفتہ وہ اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر ضرورت محسوس ہونے پر انہیں حقہ یا سگریٹ یا نسوار وغیرہ نہ ملے تو وہ پاگلوں کی طرح دوڑے پھرتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہم ایک دفعہ پہاڑ پر جارہے تھے تو میرے ساتھیوں میں ایک احمدی پٹھان بھی تھے جنہیں نسوار کھانے کی عادت تھی مگر بد قسمتی سے وہ اپنی ڈبیا گھر میں بھول آئے تھے۔راستہ میں ایک کشمیری مزدور آرہا تھا جس نے اپنے کندھے پر لکڑیاں اٹھائی ہوئی تھیں وہ اُسے دیکھتے ہی نہایت لجاجت کے ساتھ کہنے لگے اے بھائی کشمیری۔اے بھائی کشمیری جی۔اے بھائی جی۔آپ کے پا س نسوار ہے مجھے یہ بات سُن کر بے اختیار ہنسی آگئی کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنی گردن بھی نیچی نہیں کرتا تھا آج نشہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے کس قدر لجاجت پر اُتر آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں جو دوست باہر سے آپ کی ملاقات کے لئے آتے تھے اُن میں سے بعض لوگ حُقّہ کے بھی عادی ہوتے تھے۔اُن دنوں قادیان میں اور تو کسی جگہ حُقّہ نہیں ہوتا تھا صرف ہمارے ایک تایا کے پاس ہوا کرتا تھا جو سخت دہریہ اور دین سے بے تعلق تھے۔مگر حقہ کی عادت کی وجہ سے وہ اُن کے پاس بھی چلے جاتے اور انہیں مجبوراً اُن کی باتیں سُننی پڑتیں۔ہمارے یہ تایا دین سے ایسے بے تعلق تھے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے اُن سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نماز بھی پڑھی ہے۔وہ کہنے لگے میں تو بچپن سے ہی بڑا سلیم الطبع واقعہ ہوا ہوں۔میں چھوٹی عمر میں ہی جب دیکھتا کہ لوگوں نےسرنیچے اور سرین اوپر کئے ہوئے ہیں۔تو میں ہنستا کہ یہ کیسے بے وقوف لوگ ہیں اور اَب تو میَں بہت سمجھدار ہوں۔میں نے نماز کیا پڑھنی ہے ایک دوست نے سُنایا کہ ایک دفعہ ایک احمدی وہاں حقہ پینےکے لئے چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اپنے آپ کو گالیاں دیتے ہوئے واپس آگیا۔کسی دوست نے پوچھا کہ کیا بات ہے وہ کہنے لگا کہ میں اپنے آپ کو اس لئے بُرا بھلا کہہ رہا ہوں کہ محض حقہ کی عادت کی وجہ سے مجھے اس کے پاس جانا پڑا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف باتیں سُننی پڑیں۔اگر مجھے یہ بری عادت نہ ہوتی تو میں اس کے پاس کیوں جاتا اور اپنے آقا کے خلاف اس کے منہ سے کیوں باتیں سُنتا۔غرض حقہ بھی لغویات میں شامل ہے جس کو چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور اگر کوئی شخص خود نہ چھوڑ سکے تو اُسے کم از کم یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ اُس کی اگلی نسل اس بدی سے محفوظ رہے اور اُس کی عمر کے خاتمہ کے ساتھ اس لغو فعل کا بھی اُس کے خاندان میں خاتمہ ہو جائے۔پھر لغویات میں بے کار بیٹھ کر گپیں ہانکنا اور دوسروں سے بے تعلق باتیں پوچھتے رہنا بھی شامل ہے۔ہمارے ملک میں یہ ایک عام نقص ہے کہ مرد بھی اور عورتیں بھی دوسروں سے ایسی باتیں پوچھتے ہیں جن کا اُن کی ذات کے