تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 221
اپنی ساری جائیداد بر باد کر دیتا ہے۔اور اگر جیتتا ہے تو اور ہزاروں گھروں کی بر بادی کا موجب بن کر۔پھر جوئے باز میں روپیہ کو لُٹانے کی عادت لازمی طورپر پیدا ہو جاتی ہے۔شاید ہی کوئی جوئے باز ایسا ہوگا جو اپنے روپیہ کو سنبھال کر رکھتا ہو۔بالعموم سارے جوئے باز بے پر واہی سے اپنا مال لٹا دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ روپیہ کمانےکے لئے انہیں زیادہ جد و جہد نہیں کرنی پڑے گی۔گویا ایک طر ف تو وہ دوسرے لوگوں کو بر باد کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنے مال سے بھی صحیح رنگ میں فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ روپیہ کمانے کے لئے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔پھر جٔوا عقل اور فکر کو بھی کمزور کر دیتا ہے اور جوئے باز ہار جیت کے خیال سے ایسی چیزوں کے تباہ کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے جنہیں کوئی دوسرا عقلمند تباہ کرنےکے لئے تیار نہیں ہوتا۔پُرانے زمانہ کی ہندو تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت کرشن ؑ کے پھوپھی زاد بھائی یدھشٹر نے اپنی بیوی تک جوئے میں ہار دی تھی۔پس یہ ایک لغو چیز ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔تیسری چیز جو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے لغو میں شامل ہے وہ ناچ ہے۔انگریزوں میں کسی زمانہ میں ناچ بہت بُرا سمجھا جاتا تھا۔مگر آہستہ آہستہ لوگوں نے اسے اختیار کرنا شروع کر دیا۔پہلے عورت اور مرد صرف ہاتھ پکڑ کر ناچتے تھے۔پھر سینہ کی طرف سینہ کر کے ناچنے لگے پھر یہ سلسلہ اَور بڑھا اور درمیانی فاصلہ تین انگشت تک آگیا۔اب بہت جگہ پر یہ بھی اڑ گیا ہے۔قرآن کریم نے وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ( نور:۳۲) میں عورتوں کے لئے اپنے پیروں کو اس طرح زمین پر مار کر چلنے سے بھی منع فرمایا ہے جس سے اُن کی زینت کا اظہار ہو۔اور ناچ میں تو زینت کے اخفاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس ناچ بھی مال اور اخلاق کو تباہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔دنیا میں ایسے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کنچنیوں کے ایک ایک ناچ پر اپنی ساری جائیدا دیں دے دیتے ہیں۔ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ڈوموں کے لطیفوں پر اپنے قیمتی اموال لٹا دیتے ہیں۔پس گانے کی طرح ہر قسم کا ناچ بھی ایک لعنت ہے۔جس سے نوجوانوں کے اخلاق بگڑتے اور قوم کے اموال تباہ ہوتے ہیں۔چوتھی چیز جو لغویات میں شامل ہے اور جس کا ترک کرنا نہایت ضروری ہے وہ حقّہ ہے۔لوگ پہلے تو اس کو اس لئے شروع کرتے ہیں کہ اس سے قبض کھل جاتی ہے۔مگر پھر اُن کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ پاخانہ میں بیٹھ کر تین تین دفعہ چلمیں بھرواتے ہیں تب انہیں اجابت ہوتی ہے۔پھر حقہ پینے والوں کو ہمیشہ گلے اور سینہ کی خرابی اور کھانسی کا عارضہ لاحق رہتا ہے کیونکہ جو چیز جسم کو سُن کر دیتی ہے وہ آخر میں اعصاب کو ڈھیلا اور کمزور کر دیتی ہے اور کئی امراض کا موجب بن جاتی ہے مگر اس زمانہ میں حُقّہ اور سگریٹ کا اس قدر رواج ہے کہ اکثر نوجوان بلکہ بچے بھی اس