تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 223

ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مثلاً عورت بلاوجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہے کہ یہ کپڑا کتنے کا لیا۔یہ زیور کہاں سے بنوایا اور جب تک اُس کی ساری ہسٹری معلوم نہ کرلے اُسے چین ہی نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی لیکن کسی اور عورت نے اُس کی طرف توجہ نہ کی۔اُس نے تنگ آکر اپنے گھر کو آگ لگا دی۔لوگوں نے پوچھا کہ کچھ بچا بھی ہے۔اُس نے انگوٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوائے اس انگوٹھی کے اور کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے کہا بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی یہ تو بہت خوبصورت ہے۔وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم پہلے پوچھ لیتیں تو میر ا گھر کیوں جلتا۔اسی طرح مرد السلام علیکم کہنے کے بعد ہی پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو ؟ کہاں جائو گے ؟ کیا کام ہے ؟ آمدنی کیا ہے ؟ کتنے بچے ہیں ؟ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ ؟ حالانکہ اُس کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انگریزوں میں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے بلاوجہ پوچھیں کہ کہاں ملازم ہو ؟ تعلیم کتنی ہے ؟ تنخواہ کیا ملتی ہے ؟ وہ کبھی کرید کرید کر دوسرے کے غیر متعلق حالات معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔مگر ہمارے ہاں اس کو بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ جن لوگوں کو بڑی بڑی باتوں کا خیال ہوتا ہے انہیں چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔اگر لوگوں کو دین کا فکر ہو اور انہیں معلوم ہو کہ اسلام آج کن مصیبتوں میں گھِرا ہواہے اور اس کی اشاعت کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے تو انہیں لغو کاموں اور لغو باتوں کا خیا ل بھی پیدا نہ ہو۔اگر کسی کے گھر میں آگ لگ جائے تو وہ بیٹھ کر گپیں مارنے نہیں لگ جاتا بلکہ دیوانہ وار دوڑتا اور آگ کو بُجھانے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح اگر مسلمان غور کریں اور اُن کی روحانی آنکھ کھلی ہو تو انہیں معلوم ہو کہ آج کفر اور ایمان کی ایک بڑی بھاری جنگ لڑی جارہی ہے۔شیطان اپنے تمام ہتھیاروںسمیت میدان میں اُترا ہو اہے اور رحمٰن خدا کا لشکر بھی کفر کی سرکوبی کے لئے کھڑا ہے اور دونوں لشکروں میں وہ آخری جنگ جاری ہے جس میں ابلیس کا سرہمیشہ کے لئے کچلا جائےگا اگر ایسے نازک وقت میں بھی انہوں نے لغویات کو ترک نہ کیا اور اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش نہ کی تو اُن سے زیادہ بد قسمت اَور کون ہوگا۔