تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 218

سینما نہ دیکھا کرے۔کیونکہ اس میں بھی گانا بجانا ہوتا ہے جو انسانی قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے غافل کر دیتا ہے پہلے یہ چیز تھیٔٹر میں ہو ا کرتی تھی لیکن جب سے ٹاکی نکل آئی ہے سینما میں بھی یہ چیزیں آگئی ہیں بلکہ تھیٔٹر سے زیادہ وسیع پیمانہ پر آئی ہیں۔کیونکہ تھیٔٹر کا صرف ایک شو ہوتا تھا جس میں بڑے بڑے ماہرِفن گویّوں کو بلانا بہت بڑے اخراجات کا متقاضی ہوتا تھا جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور پھر ایک شو صرف ایک جگہ ہی دکھایا جا سکتا تھا۔مگر اب ایک شو سے ہزاروں فلمیں تیار کر کے سارے ملک میں پھیلا دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے ماہرِ فن گویّوں اور موسیقاروں کو بلایا جاتا ہے۔اس لئے تھیٔٹر سے سینما کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گانا بجانا اور باجے وغیرہ یہ سب شیطان کے ہتھیار ہیں جن سے وہ لوگوں کو بہکاتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی اس واضح ہدایت کو بھلا دیا اور وہ اپنی طاقت کے زمانہ میں رنگ رلیوں میں مشغول ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر انہیں اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔خلافت ِ عباسیہ تباہ ہوئی تو محض گانے بجانے کی وجہ سے۔ہلاکو خاں اپنے لائو لشکر کے ساتھ منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہو ابغداد کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا اور مستعصم باللہ ناچ گانے میں مشغول تھا اور بار بارکہتا تھا کہ تم گانے والیوں کو بلائو۔بغداد پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔جو حملہ کرےگا وہ خود تباہ ہو جائےگا لیکن ہلاکو خاں نے پہنچتے ہی سب سے پہلے بادشاہ کو قتل کر وایا پھر اُس کے ولی عہد کو قتل کیا اور پھر بغداد پر حملہ کرکے اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اٹھارہ لاکھ آدمی قتل کر دئیے (الفخری زیر عنوان آخر الخلفاء الدھین خلافة المستعصم باللہ و تاریخ العرب الجزء الثانی صفحہ ۵۸۱۔۵۸۲)۔اسی طرح مغلیہ حکومت کی تباہی بھی گانے بجانے کی وجہ سے ہی ہوئی۔’’ محمد شاہ رنگیلے ‘‘ کو رنگیلا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گانے بجانے کا بہت شوقین تھا۔بہادر شاہ جو ہندوستان کا آخری مغل بادشاہ تھا وہ بھی اسی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوا۔انگریزوں کی فوجیں کلکتہ سے بڑھ رہی تھیں۔الٰہ آباد سے بڑھ رہی تھیں کانپور سے بڑھ رہی تھیں۔میرٹھ سے بڑھ رہی تھیں۔سہارنپور سے بڑھ رہی تھیں اور بادشا ہ کے دربار میں گانا بجانا ہو رہا تھا۔آخر انگریزوں نے اُس کے بارہ بیٹوں کے سرکاٹ کر اور خوان میں لگا کر اُس کی طرف بھیجے اور کہا کہ یہ آپ کا تحفہ ہے(بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد باب ۴۱ شاہی خاندان کی بپیتا صفحہ ۸۳۸۔۸۳۹)۔اندلس کی حکومت بھی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔مصر کی حکومت بھی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔مصر پر صلاح الدین ایوبی نے حملہ کیا تو فاطمی بادشاہ اُس وقت گانے بجانے میں ہی مشغول تھا مگر اتنی بڑی تباہی دیکھنے کے با وجود مسلمانوں کو اب بھی یہی شوق ہے کہ سینما دیکھیں اور گانا بجانا سُنیں اور وہ اپنی تاریخ سے کوئی عبرت حاصل نہیں کر تے۔حالانکہ قرآن کریم نے وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ میں بتا دیا ہے کہ اگر مسلمان عبادالرحمٰن