تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 219
بننا چاہتے ہیں تو اُن کا اوّلین فرض یہ ہے کہ وہ گانے بجانے کی مجالس کو ترک کریں۔اور خدائے واحد سے لو لگائیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو کامیاب ہو جائیں گے۔اور اگر نہیں کریں گے تو اس کے تباہ کن نتائج سے وہ محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔پھر فرماتا ہے۔وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا۔عباد الرحمٰن کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ جب وہ لغو باتوں کے پاس سے گذرتے ہیں تو دنیوی لذّات سے متاثر ہو کر اُن میں شامل نہیں ہو جاتے۔جیسے مسیح ؑکی امت ذکر الٰہی کو بھول کر ناچ گانے اور موسیقی میں مشغول ہو گئی بلکہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے اُن میں شامل ہوئے بغیر بزرگانہ طورپر وہاں سے گذر جاتے ہیں اور دنیوی لذّات پر رضا ء الٰہی کو مقدم رکھتے ہیں۔میرے نزدیک موجودہ زمانہ میں جو لغویات پائی جاتی ہیں اُن میں سب سے مقدم سینما ہے جو قومی اخلاق کے لئے ایک نہایت ہی مہلک اور تباہ کن چیز ہے اور تمدنی لحاظ سے بھی ملکی امن کے لئے خطرہ کا موجب ہے۔میں نے کچھ عرصہ ہوا فرانس کے متعلق پڑھا کہ وہاں کئی گائوں صرف اس لئے ویران ہو گئے کہ لوگ سینما کے شوق میں گائوں چھوڑ چھوڑ کر شہروں میں آکر آباد ہو گئے تھے۔اور گورنمنٹ کو فکر پڑ گئی کہ اس رَو کو کس طرح روکا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سینما اپنی ذات میں بُرا نہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس کا بُرے طور پر استعمال کرکے اس زمانہ میں اسے انتہائی طور پر نقصان رساں اور تباہ کن بنادیا گیا ہے۔ورنہ اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کے نظاروں کی فلم تیار کر ے اور وہاں کی برف اور درخت اور چشمے وغیرہ لوگوں کو دکھائے جائیں۔اُس کی چٹانوں اور غاروں اور چوٹیوں کا نظارہ پیش کیا جائے اور اس میں کسی قسم کا باجا یا گانا نہ ہو۔تو چونکہ یہ چیز علمی ترقی کا موجب ہوگی اس لئے یہ جائز ہوگی۔اسی طرح اگر کوئی فلم کلی طور پر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہو اور اُس میں گانے بجانے یا تماشہ کا شائبہ تک نہ ہوتو اس کے دیکھنے کی بھی ہم اجازت دے دیں گے۔اسی طرح تربیتی یا جنگی اداروں کی طرف سے جو خالص علمی تصاویر آتی ہیں جن میں جنگلوں دریائوں کے نظارے یا کارخانوں کے نقشے یا لڑائی کے مختلف مناظرہوتے ہیں وہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی ترقی ہوتی ہے یا بعض صنعتی یا زرعی تصویریں ہوتی ہیں جن میں کسانوں کو کھیتی باڑی کے طریق سکھائے جاتے ہیں۔فصلوں کو تباہ کرنے والی بیماریوں کے علاج بتائے جاتے ہیں۔زراعت کے نئے نئے آلات سے روشناس کیا جاتا ہے۔عمدہ بیج اور اُن کی پیداوار دکھائی جاتی ہے۔ایسی چیزیں لغو میں شامل نہیں کیونکہ اُن کے دیکھنے سے علمی لحاظ سے انسان کو ایک نئی روشنی حاصل ہو تی ہے اور اس کا تجربہ ترقی کرتا ہے اور وہ بھی اپنی تجارت یا صنعت یا زراعت کو زمانہ کی دوڑ کے ساتھ ساتھ بڑھانے اور ترقی دینے کے وسائل اختیار کر سکتا ہے لیکن جھوٹی فلم خواہ جغرافیائی ہو خواہ تاریخی ناجائز ہے۔مثلاً نپولین کی جنگوں کی کوئی شخص فلم بنائے تو یہ جھوٹی ہو گی اور با وجود نام نہاد