تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 217

بیان کرنا بھی غیبت ہے ؟ آپؐ نے فرمایا یہی تو غیبت ہے ورنہ اگر وہ سچی بات نہ ہوتو اس کا بیان کرنا غیبت نہیں بلکہ جھوٹ ہے۔(ترمذی ابواب البر و الصلۃ باب ما جاء فی الغیبة)۔پس سچ بولنے کے یہ معنے نہیں کہ دوسروں کی کمزوریوں کو ہر جگہ بیان کرتے پھر و۔بلکہ سچ بولنے کے یہ معنے ہیں کہ جب قاضی کے سامنے شہادت کا موقعہ آئے تو بغیر اس بات کا خیال کئے کہ سچا واقعہ بیان کرنے سے تمہارے دوست یا بھائی یا باپ یا بیوی پر کوئی الزام آئےگا۔تم ہر سوال کا جواب سچ سچ دےدو یہی وجہ ہے کہ شریعت نے حکم دیا ہے کہ گواہی صرف قاضی لے کیونکہ بعض جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں شریعت کہتی ہے کہ گواہی نہ لو۔اَب اگر گواہی لینے والا قاضی نہ ہو تو ہو سکتا ہے وہ کوئی ایسی بات پوچھ لے جس کے پوچھنے کی شریعت نے اُسے اجازت نہیں دی اور اس طرح فتنہ پھیل جائے۔پس سچ کے یہ معنے نہیں کہ جو کچھ تم دیکھو اُسے ضرور بیان کرو اور نہ سچ کے یہ معنے ہیں کہ تم جو کچھ دیکھو اُسے ہر ایک کے سامنے بیان کرو۔اگر غیر قاضی تم سے سوال کرتا ہے تو تم کہہ دو میں نہیں بتا تا۔اسی طرح اگر تم کسی شخص کو کوئی جرم کرتے دیکھتے ہو تو تمہارا اُس پر پردہ ڈال دینا سچ کے خلاف نہیں تمہارا سچ کے خلاف فعل اس وقت متصور ہوگا جب قاضی یا قائم مقام قاضی جسے شریعت نے اپنے دائرہ میں گواہی لینے کا حق دیا ہے۔تم سے دریافت کرے اور تم سچ نہ بولو لیکن اگر وہ تمہیں گواہی کے لئے نہ بلائے تو خواہ وہ بات درست ہی ہو اُس کا چھپانا سچ کے خلاف نہیں بلکہ اس طرح تم صلح پسند بنتے ہو۔اور فتنہ و فساد سے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو محفوظ رکھتے ہو۔(۲ )زُور کے دوسرے معنے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے عقل کے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ رحمٰن کے بندے عقل سے گواہی نہیں دیتے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے عقلی سے گواہی دیتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ واقعات کے مطابق گواہی دیتے ہیں قیاسی گواہی نہیں دیتے۔(۳) زُور کے تیسرے معنے طاقت کے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ رحمٰن کے بندے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں غریب آدمی کو ذلیل کرنے کے لئے گواہی نہیں دیتے۔(۴) زُور کے چوتھے معنے شرک کے ہیں۔اس لحاظ سے وَالَّذِیْنَ لَایَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ کے یہ معنے ہوںگے کہ رحمٰن کے بندے شرک کی مجالس میں نہیں جاتے۔(۵) زُورکے پانچویں معنے مَجْلِسُ الْغِنَائِ یعنی گانے بجانے کی مجلس کے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ رحمٰن کے بند ے گانے بجانے کی مجلس میں نہیں جاتے تاکہ اُس کے زہریلے اثرات سے وہ محفوظ رہیں اور خدا تعالیٰ سے غافل ہو کر ہوا وہوس کے پیچھے نہ چل پڑیں اسی بناء پر میں نے اپنی جماعت کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ